لعموم اللفظ لالخصوص السبب۔قاعدہ مسلمہ اہل اصول کا ہے پس کیا ضرورت ہے کہ اس آیت سے سوائے مہاجرین و انصار کے اور کوئی ناصر مراد نہ ہوسکے۔ ثانیاً آنکہ سلمنا کہ مہاجرین و انصار ہی مراد ہیں لیکن جس وقت سے کہ مہاجرین و انصار نے اللہ اور اسکے رسول کی نصرت کرنی شروع کی اسی وقت سے نصرت الہٰیہ شامل حال ان کے ہوگئی تھی اگرچہ نصرت تامہ و کاملہ الہیہ کا ظہور تامہ کسی قدر زمانہ کے بعد عوام پر ظاہر ہوا ہو۔ ثانیاً آنکہ یہ جو جناب فرماتے ہیں کہ جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ چیز بعد زمانہ وعدہ کے پائی جاتی ہے۔ سلمنا لیکن یہ کیا ضرور ہے کہ بعدیّت منفصلہ ہی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ بعدیّت متصلہ ہو۔ تقدم ذاتی اور تاخر ذاتی کا مسئلہ جو بین المنطقین مشہور و معروف ہے۔ بنظر و لحاظ فضل و رحم ارحم الراحمین کے یہاں پر کیوں نہیں مراد ہوسکتا۔ حرکتِ مفتاح اگرچہ حرکتَِ ید کے بعد متحقق ہوتی ہے لیکن ان ددنوں حرکتوں میں کوئی فاصلہ زمانہ دراز کا نہیں ہوتا معہٰذا کہتے ہیں کہ حرکت ید مقدم ہے اور حرکت مفتاح متاخر اگر ایسی ہی قبلیۃ و بعدیۃ آپ کی مراد ہے تو پھر یہ سب ایک نزاع لفظی ہوا جو حضرت اقدس مرزا صاحب کو کچھ بھی مضر نہیں ہے اور تراجم ثلاثہ کی کیفیت ناظرین کو پہلے معلوم ہوچکی۔ قولہ یہاں بھی مستقبل مراد ہے الخ۔ اقول وعد اور موعود میں جو قبلیۃ اور بعدیۃ ہے اس کا حال معلوم ہوچکا اور تراجم ثلاثہ کا حال بھی مکررسہ کرر لکھا جاچکا حاجت اعادہ کی نہیں ہے اور یہاں عادت مستمرہ ہونے میں کون سا محذور لازم آتاہے بیان فرمایا جاوے۔قولہ بالا معلوم ہوچکا۔ اقول نہ کچھ بالا معلوم ہوا اور نہ کچھ زیر معلوم ہوا بلکہ قاعدہ نون ثقیلہ کا بالکل ہوچکا۔ قولہ ان لوگوں کی کلام میں کہیں تصریح حال کی نہیں الخ اقول آپ تمام قرآن مجید میں سے ایک ہی صیغہ ایسا بتلاویں جس میں اللہ تعالیٰ نے یارسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح کردی ہو کہ اس صیغہ میں سوائے استقبال کے اور کوئی زمانہ مراد نہیں تو پھر ہم بھی ایسی تصریح کہیں تلاش کریں گے مولانا صاحب اہل لسان جو صیغے مضارع وغیرہ کو اپنی کلام میں استعمال کرتے ہیں اس کلام میں کہیں یہ تصریح نہیں ہوتی ہے کہ یہاں پر ہماری مراد حال ہے یا استقبال یہ فہم تو اہل لِسان اپنے اپنے محاورات کے بموجب سمجھ لیتے ہیں اور غیر اہل لسان حسب قواعد صرف و نحو و علم بلاغت وغیرہ سمجھتے ہیں اور ہم نے اوپر ان سب علوم سے ثابت کردیا کہ ان صیغوں میں حال بھی مراد ہوسکتا ہے اور استمرار بھی مظہری وغیرہ سے مصرحاً گذر چکا کہ فان حقیقۃ الکلام للحال اور حضرت اقدس نے جو اس آیہ میں معنی استقبال بطور امکان کے تجویز فرمائے ہیں تو صرف الزاماً افحام مخالفین کیلئے تجویز کئے ہیں قولہ تو جواب یہ ہے کہ بے شک اس صورت میں قاعدہ مقرر کی بنا پر الخ اقول یہاں پر یہ تو جناب نے اقرار فرما لیا کہ بے شک اس صورت میں قاعدہ مقرر کی بنا پر البتہ ردّ نہ ہوسکے گا