منؔ حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ کا مضمون بھی تو پیش نظر حضرت اقدس کے رہتا ہے اور اس پر بھی آخر پرچہ سوم میں یہ بھی تحریر فرما دیا گیا۔ کہ اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جب پبلک کی طرف سے منصفانہ رائیں شائع ہوں گی اور ثالثوں کے ذریعہ صحیح رائے جو حق کی موید ہو پیدا ہوجائے گی تو اس تصفیہ کے بعد آپ تحریری طور پر دوسرے امور میں بھی بحث کرسکتے ہیں لیکن اس تحریری بحث کیلئے میرا اور آپ کا دہلی میں مقیم رہنا ضروری نہیں جب کہ تحریری بحث ہے تو دور رہ کر بھی ہوسکتی ہے میں مسافر ہوں اب مجھے زیادہ اقامت کی گنجائش نہیں فقط۔ ایہا الناظرین باوجود اس کے مولوی صاحب کا بھوپال میں واپس تشریف لا کر برملا مجالس وعظ وغیرہ میں ہر کہ ومہ کے سامنے یہ اشتہار دینا کہ حضرت اقدس مرزا صاحب مقام دہلی سے میرے مقابل نہ ٹھہر سکے اور گریز کر گئے کیسا اپنے موقع اور محل پر ہے فاعتبروا یا اولی الابصارباقی ترجمتین کے الفاظ جو بلفظ استقبال ترجمہ کئے گئے ہیں ان سے مراد دوام تجدّدی ہوسکتا ہے کما مرغیرمرۃ قولہ اول یہ کہ الخ۔ اقول آیت میں حرف فاء جو واسطے ترتیب بلا مہلت کے آتا ہے موجود ہے۔ پس جس وقت کوئی شخص مرد ہو یا عورت عمل نیک کرے در حالیکہ وہ مومن ہو تو اسکے واسطے بلامہلت حیٰوۃ طیّبۃ متحقق ہوجاتی ہے ورنہ حرف فاء لغو ہوجاوے گا۔ تفسیر ابن کثیر سے جو آپ نے معنے نقل فرمائے وہ بھی اسی مطلب کو ثابت کررہے ہیں دیکھو اس میں صاف لکھا ہے کہ بان یحیی اللّٰہ حیٰوۃ طیبۃ فی الدنیا ہاں البتہ لَنَجْزِ یَنَّھُمْ کو صاحب تفسیر ابن کثیر نے واسطے حاصل ہونے تاسیس کے آخرۃکے واسطے لکھا کیونکہ یہ ایک مسئلہ علم بلاغت کا ہے کہ التّاسیس خیر من التاکید ہم بھی یہاں استقبال ہی تسلیم کرتے ہیں مگر یہ حضرت مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کے قاعدہ نون ثقیلہ کے نقض کے واسطے تو صرف ایک صیغہ قرآن مجید کا جو واسطے حال یا استقبال یا استمرار کے آیا ہو کافی ہے کیونکہ آپ التزاماً ہر جگہ ایسے صیغے میں استقبال مراد لیتے ہیں پس موجبہ کلیہ کا نقیض سالبہ جزئیہ ہی آتا ہے جو یہاں صادق ہے پس موجبہ کلیہ غیر صادق ہوگا۔ اور حضرت مرزا صاحب ایسے صیغے میں صرف زمانہ حال یا خالص استقبال یا فقط استمرار التزاماً ہرجگہ مراد نہیں لیتے بلکہ بحسب مقتضائے مقامات مناسبہ کہیں حال مراد ہوتا ہے اور کہیں استقبال اور کسی جگہ دوام تجدّدی مراد ہوتا ہے پس اس مسلک کے نقص کے واسطے کتنے ہی صیغے آپ ایسے نقل فرمائیں جن میں خالص استقبال مراد ہو تو حضرت اقدس کے صراط مستقیم کو کچھ مضر نہیں کیونکہ وہ التزاماً کوئی خاص ایک زمانہ ایسے صیغے میں ہر جگہ مراد نہیں لیتے۔قولہ یہاں استقبال مراد ہے بچند وجوہ اول یہ کہ الخ۔ اقول لا نسلم اما اولا آنکہ العبرۃ