کوؔ خالص استقبال کے واسطے ٹھہرا نا زبان فرس میں ایک جدید قاعدہ کی تجدید کرنی ہے۔ باقی الفاظ ترجمتین کے جو بصیغہ مستقبل ہیں ان کی نسبت وہی گذارش ہے کہ صیغہ مستقبل کا دوام تجددی کے واسطے مستعمل ہونا کتب علم بلاغت سے ثابت ہوچکا ہے۔ قولہ یہاں ارادہ حال و استمرار قطعاً باطل ہے الخ۔ اقول مولانا صاحب صرف آیت ۱ کا لوح محفوظ میں مکتوب ہونا جو جناب نے بحوالہ بیضاوی تحریر فرمایا اس کی کچھ ضرورت نہیں تھی کیونکہ بیضاوی وغیرہ کی تفسیر کو تو آپ آیت لیومنن بہ قبل موتہ میں محض غلط اور باطل فرماچکے ہیں یہ ہیچمدان جناب کی تائید کے واسطے یہ عرض کرتا ہے کہ کل قرآن مجید لوح محفوظ میں مکتوب ہے۔ قال اللّٰہ تعالٰی ۲ مگر گذارش یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو ازمنہ ثلاثہ کا اعتبار کیا گیا ہے وہ وقت نزول سے کیا گیا ہے ورنہ اگر وقت کتابت لوح محفوظ کا لحاظ کیا جاوے تو تمام ازمنہ ثلاثہ ماضی و حال و استقبال بلکہ استمرار سب استقبال ہی میں داخل ہیں پھر جناب والا کی تمام بحث عمدہ اور اصل جو نون ثقیلہ کی نسبت ہے محض بیکار ہوئی جاتی ہے۔ پس اندریں صورت جو آیات کہ حضرت اقدس نے تحریر فرمائی ہیں ان کا تو ذکر ہی کیا ہے اس بنا پر تو تمام صیغے ماضی و حال و استمرار مندرجہ قرآن مجید سب استقبال میں داخل ہیں اور یہ نزاع حال و استمرار کا محض بے سود۔ اگر آیت لیؤْمننّ بہ قبل موتہٖ میں حضرت اقدس نے استمرار مراد لیا تو کتابت لوح محفوظ سے بھی وہ استقبال میں داخل رہا اور اس آیت لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ۳میں بھی اگر حال یا استمرار مراد لیا تو وہ بھی کتابت لوح محفوظ سے استقبال میں ہی ہوا پھر یہ جو آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ ارادہ استمرار قطعاً باطل ہے اسکے کیا معنے ہیں۔ استمرار بھی تو اس بنا پر استقبال ہی میں داخل ہے یہ تو ایسا استقبال ہے کہ کوئی زمانہ اس سے باہر رہ ہی نہیں سکتا اور ترجمہ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب کو جو بلفظ مضارع ہے خالص استقبال کہنا جناب کا ہی کام ہے یہ ہیچمدان تو اس مسئلہ کو کہتے کہتے تھک گیا
گفتہ گفتہ من شدم بسیار گو
ازشما یک تن نہ شد اسرارجو
ناظرین کو اب بخوبی معلوم ہوگیا ہوگا کہ حضرت اقدس مرزا صاحب کا بعد تین پرچوں کے بحث کا ختم کردینا نہایت ہی ضروری تھا ورنہ اپنی اوقات کو مکررسہ کرر صرف کرنا محض تضیع اوقات تھی کیونکہ مولوی صاحب کی اس بحث میں سواء اعادہ ان امور کے جن کا جواب شافی و کافی اول ہی پرچہ میں ہوچکا اور رہا سہا بلکہ مکرر دوسرے پرچہ میں بھی اتمام حجت کیا گیا اور پھر پرچہ ثالث میں بھی بپاس خاطر مولانا صاحب کے سہ کرر جو ابہائے شافی و کافی دیئے گئے معہذا اگر اب بھی بحث ختم نہ کی جاتی تو اس ہیچمدان کو یہ بتلایا جاوے کہ وہ کون سا امر جدید جواب طلب پیش کیا گیا ہے جس کا جواب مکررسہ کررنہ ہوچکا ہو