بحسبؔ الافعال و مفوض الی العرف۔ قولہ ارادہ حال اس آیہ میں بھی غلط ہے الخ اقول درحالیکہ استقبال قریب کے آپ بھی قائل ہیں اور کتب علم بلاغت مطول وغیرہ سے ثابت ہوچکا کہ زمانہ حال ایک امر عرفی ہے اور اس کی مقدار باعتبار افعال کے مختلف ہے اور اسی وجہ سے مفوض الی العرف ہے تو بحث جناب کی ایک نزاع لفظی ہوگئی ہے جس کا بار بار تکرار کیا جاتا ہے جو آپ کی شان سے نہایت بعید ہے۔ اور میں حیران ہوں کہ ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب کو جوبلفظ مضارع ہے آپ کیوں اس کو خالص استقبال قرار دیتے ہیں اور ذرہ متنبہ نہیں ہوتے اور اس پر طُرّہ یہ ہے کہ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کو جو ابھی جلاویں گے ہم اس کو ہے خالص استقبال کس طرح فرماتے ہیں۔ لفظ ابھی تو خالص حال کے واسطے آتا ہے۔ ۱؂ لان ھذا الفہم بعید عن الصبی فضلا عن الفاضل الذی ھو نائب النبی قولہ واضح ہو الخ اقول حضرت اقدس مرزا صاحب ان معنوں کے لینے میں ہرگز منفرد نہیں تمام سلف و خلف امت بعض ان آیات کو حال پر اور بعض کو استمرار پر محمول کرتے چلے آتے ہیں کما مرّتفصیلہ قولہ اول یہ کہ الخ اقول جزاکم اللّٰہ فی الدّارین خیرا۔ کہ جناب نے اس امر کو تو تسلیم فرما لیا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت مستمرہ ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں مدام دکھلایا کرتا ہے فقط۔ اور یہ مسئلہ کتب علم بلاغت سے ثابت ہوچکا ہے کہ صیغہ مستقبل کا بحسب مقامات مناسبہ کے دوام تجددی اور استمرار کے واسطے مستعمل ہوا کرتا ہے۔ پس اب گذارش یہ ہے کہ کیا وجہ کہ اس آیت کے ایسے ناقص اور ادھورے معنے کئے جاویں جو اس عادت مستمرہ کو شامل نہ ہوویں حالانکہ کتاب اللہ بلاغت میں طرف اعلیٰ حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے اور حضرت نبی علیہ السلام فرماتے ہیں اوتیت جوامع الکلم اور سلّمنا کہ آیت وعدہ ہے لیکن وعدہ کو زمانہ حال یا استمرار سے کچھ منافات نہیں ہے۔ کیونکہ وعدہ زمانہ حال کے واسطے بھی کیا جاتا ہے اور بطور استمرار کے بھی وعدہ ہوسکتا ہے جیسا کہ حضرت اقدس نے مشرحاً بیان فرمایا ہے۔ اور حضرت اقدس نے جو معنے دوم کی تائید میں تصحیح خالص استقبال کی کی ہے وہ صرف جناب کی خاطر سے کی ہے۔ بقول شخصے کہ خصم راتابخانہ باید رسانید۔ چنانچہ الفاظ حضرت اقدس کے اس پر دال ہیں جو جناب نے بھی نقل فرمائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کیا استقبال کے طور پر دوسرے معنے بھی نہیں ہوسکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ قولہ ۔ دوم یہ کہ الخ۔ اقول مولانا شاہ ولی اللہ صاحب کے الفاظ مضارع