ھذہؔ الایۃ و رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی مسجد بنی سلمۃ و قدصلی باصحابہ رکعتین من صلٰوۃ الظھر فتحول فی الصلٰوۃ واستقبل المیزاب وحوّل الرجال مکان النساء والنساء مکان الرجال فسمّٰی ذٰلک المسجد مسجد القبلتین کذاذکرہ البغوی ثم قال وقیل کان التحویل خارج الصلٰوۃ بین الصلٰوتین ورجح الواقدی الاول وقال ھٰذا عندنا اثبت ذکرہ فی المظھری وقال فیہ ایضا فحدیث البراء محمول علی ان البراء لم یعلم صلٰوتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی مسجد بنی سلمۃ الظھر‘اوالمراد انہ اول صلٰوۃ صلہا کاملا الی الکعبۃ انتھٰی ۔واللّٰہ اعلم۔اور اگر مولوی صاحب اسی بیضاوی کی طرف جس سے یہاں پر کچھ تھوڑا سا نقل عبارت کیا آخر عبارت تفسیر آیت تک رجوع فرماتے تو یہ مطلب اسی سے واضح ہوجاتا۔ قال البیضاوی روی انہ علیہ السلام قدم المدینۃ فصلی نحوالبیت المقدس ستۃ عشر شھرا ثم وجھہ الی الکعبۃ فی رجب بعد الزوال قبل قتال بدر بشھرین و قد صلی باصحابہ فی مسجد بنی سلمۃ رکعتین من الظھر فتحول فی الصلٰوۃ واستقبل المیزاب و تبادل الرجال والنساء صفو فھم فسمی المسجد مسجد القبلتین۔اور ایسا ہی فتح البیان وغیرہ میں لکھا ہے۔ اور محشی عبدالحکیم نے جو فولّ وجھک کو انجاز وعد لکھا تو اس نے یہ کب کہا ہے کہ انجاز وعد میں فاصلہ قصیر یا طویل زمانہ کا واقع ہوا ہے ایفا ء وعدہ کو زمانہ حال جس کی مقدار مفوض الی العرف ہے کچھ منافی نہیں اور یہ جو آپ فرماتے ہیں کہ اس تقدیر پر فَوَلِّ وَجْھَکَ زاید ولاطائل ہوجاوے گا تو گذارش یہ ہے کہ آیت فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ متعدد جگہ موجود ہے آپ کے مسلک پر وہ بھی زاید ولاطائل ہوئی جاتی ہے۔ فماھو جوابکم فھو اوفکذاجوابنا اور شاہ ولی اللہ صاحب کے ترجمہ میں جو متوجہ گردانیم لفظ مضارع کیا گیا ہے وہ زمانہ حال و استقبال دونوں کو شامل ہے یہ جناب والا کا کمال فہم ہے کہ لفظ مضارع کو خالص استقبال کے واسطے فرماتے ہیں اور تراجم اردو میں جو ترجمہ بلفظ استقبال کیا گیا اس سے استقبال قریب مراد ہے جس کے آپ بھی قائل ہیں ہم اسی کو حال کہتے ہیں۔ کتب علم بلاغت سے ثابت ہوچکا کہ مقدار زمان الحال مختلف