جسؔ کی تائید قراء ت غیر متواترہ کرتی ہے۔ بعد اللتیا والتی حضرت اقدس نے ارجاع ضمیر کو طرف کتابییا احدمقدر کی کسی جگہ اپنی تحریرمیں غیر صحیح نہیں فرمایا اگر آپ نے کسی تحریر میں دیکھا ہو تو بہ تصحیح نقل بیان فرمایا جاوے۔ آگے رہی یہ بات کہ موت مسیح پر استدلال حضرت اقدس نے اس آیہ سے کیا ہے اس کی نسبت یہ گذارش ہے کہ کسی جگہ اس استدلال کو قطعی الدلالت نہیں فرمایا۔ جب کہ آیت ذوالوجوہ ہے تو نہ حیات مسیح پر قطعی الدلالت ہوسکتی ہے اور نہ وفات مسیح پر ۔ادلہ وفات مسیح بطورتعین و قطع کے اور بہت ہیں جو اوپر سابق میں گذر چکیں اور ازالہ میں بہ تفصیل مذکور ہیں۔ مگر ایسی آیت ذوالوجوہ کو حیات مسیح پر قطعی الدلالت ٹھہرانا یہی تو مجادلہ ہے کہ جس میں مناظرہ کا رائحہ بھی موجود نہیں ہے۔ قولہ یہاں ارادہ حال غلط محض ہے بلکہ خالص مستقبل مراد ہے بچند وجوہ اقول یہاں پر تو مولانا صاحب نے کمال ہی کیا ہے کہ نون ثقیلہ کے غلبہ و ثقل خیال میں ترتیب آیات جو درایتاً و روایتاً مراد الٰہی ہے اس کو بھی غلط محض فرما دیا۔ درایتاً بیان اس کا یہ ہے کہ آیت ۱ میں مولوی صاحب کا نون ثقیلہ تو موجود ہے ہی نہیں جو خالص استقبال ہی مراد ہو اور حال مراد نہ ہوسکے۔ پس ہم کہتے ہیں کہ قد نرٰی میں زمانہ حال مراد ہے اور ۲ میں حرف فاداخل ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ قدنرٰی پر مترتب بلا مہلت ہووے۔ مسئلہ نحو مجمع علیہ ہے کہ الفاء للترتیب ای للجمع مع الترتیب بلامہلت پس فَلَنُوَلِّیَنَّکَ کابھی حال ہی ہوا۔ اور ۳ میں بھی وہی حرف فا موجود ہے جو باتفاق نحاۃ ترتیب بلا مہلت کے واسطے آتی ہے پس نظم و نسق آیات سے معلوم ہو اکہ قَدْ نَرٰی الا یہ پر فَلَنُوَلِّیَنَّکَ الایہ بلا مہلت مترتب ہوا اور فَلَنُوَلِّیَنَّکَ الایہ پر فول وجھک الایہ بلا مہلۃ متربت اور متسبب ہوا کوئی فاصلہ زمانہ دراز یا کوتاہ کا درمیان ان آیات کے واقع نہیں ہے جو فَلَنُوَلِّیَنَّکَ کو خالص زمانہ استقبال دراز یا کوتاہ کیلئے ہی قرار دیا جاوے۔ پس درایتاً ثابت ہوا کہ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ میں زمانہ حال مراد ہے جس کی مقدار مختلف اور مفوض الی العرف ہے اور روایتاً بیان اس کا یہ ہے حواشی بخاری شریف میں لکھا ہے۔ ثم اعلم ان الروایات اختلفت فی ان التحویل ھل کان خارج الصلٰوۃ بین الظھر والعصر او فی اثناء صلٰوۃ العصر فالظاھرمن حدیث البراء الذی سبق فی کتاب الایمان فی صفحہ ۱۰ انہ کان خارج الصلٰوۃ حیث قال انہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اول صلٰوۃ صلہا الی الکعبۃ صلٰوۃ العصر الحدیث قال مجاھد وغیرہ نزلت