ہیچمدؔ ان نے یہ دو تین آیتیں واسطے توضیح قاعدہ استدلال مولوی صاحب کے بطور مثال کے لکھ دیں تاکہ ہر ایک ادنیٰ طالب علم جو ترجمہ خوان قرآن مجید ہو حیات مسیح پر قرآن شریف سے بہت سی آیات قطعی الدلالت استخراج کرسکے۔ قولہ سوم یہ کہ قراء ت غیر متواتر ہ ہے الخ اقول قراء ت غیر متواترہ سے احتجاج نہیں کیا گیا بلکہ قراء ت غیر متواترہ صرف واسطے تائید معنے قراء ت متواترہ کے حسب اصول مفسرین لائی گئی ہے چنانچہ تمام مفسرین محققین اس قراء ت غیر متواترہ کو واسطے تائید معنے قراء ت متواترہ کے اپنی تفاسیر میں لائے ہیں اسی طرح پر حضرت اقدس مرزا صاحب اس قراء ت غیر متواترہ کو واسطے تائید معنے قراء ت متواترہ کے لائے ہیں اور جناب والا نے جو روایات اس کل اپنے مباحثہ میں بیان و نقل فرمائی ہیں ان کی رجال اسانید کی کچھ بھی توثیق و تعدیل بیان نہیں فرمائی۔ کیا یہ وجوب حضرت مرزا صاحب پر ہی ہے آپ پر واجب نہیں کہ اس مقام تحقیق میں ان رجال اسانید کی توثیق و تعدیل حسب اصول علم اسماء الرجال بیان فرماتے ودونہ خرط القتاد۔ ۱ قولہ۔ چہارم یہ کہ مرزا صاحب الخ اقول آیت مذکورہ چونکہ ذوالوجوہ ہے اس واسطے حضرت اقدس نے اس کو دوسری وجہ سے بھی تفسیر فرمایا ہے یعنی قبل موتہ کی ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بھی راجع کر کر وہ تفسیر کی ہے اور وہ معنے بیان کئے ہیں کہ جن پر کسی طرح کا اعتراض وارد نہیں ہوتا ایسی آیات ذوالوجوہ کی تفسیر مختلف وجوہ سے کرنا ایک فقہ محمود ہے قال ابوالدرداء لایفقہ الرجل حتّٰی یجعل للقراٰن وجوھا۔اور جناب کی طرح حضرت اقدس نے ایسی آیت ذوالوجوہ کو ایک وجہ میں محصورکر کر قطعی الدلالت ایک وجہ پر نہیں فرمایا۔ اور در صورت ارجاع ضمیر کی طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو معنے آیت کے آپ کرتے ہیں اس پر طرح طرح کے اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ پس کیا یہی مقتضائے دیانت و انصاف ہے کہ جو معنے انواع انواع اعتراضات کے مورد ہوں ان پر تو اصرار کیا جاوے اور جو معنے خالی از فساد ہوں ان کو تسلیم نہ کیاجاوے۔ الحاصل درصورت ارجاع ضمیر کی طرف حضرت عیسیٰ کے اگر آپ وہ معنے جو حضرت اقدس نے ازالہ میں تحریر فرمائے ہیں تسلیم و قبول فرماتے تو فنعم الوفاق سب نزاع طے ہوگیا ۔اور اگر ان معنے خالی از فساد کو آپ تسلیم نہیں فرماتے تو اس وجہ سے کہ آپ کے معنے مورد اعتراضات کثیرہ ہیں ارجاع ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بسبب ان فسادات کے نہیں ہوسکتا کتابی یا احدٌ مقدر کی طرف ضمیر رجوع ہووے گی۔