جمع ؔ ہوسکتے ہیں اس طرح پر کہ زمانہ آئندہ سے زمانہ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد لیا جاوے سبحان اللہ کیا عمدہ استدلال ہے۔ اے مخالفین حضرت مرزا صاحب! مولوی محمد حسین وغیرہ تم کو مبارک ہو کہ ہمارے حضرت مولوی صاحب نے کیا عمدہ طرز استدلال کا بموجب اصول موضوعہ جدیدہ علم مناظرہ کے ایجاد کردیا ہے کہ تمام قرآن مجید کے ایسے صیغے جن میں ایمان لانے کا ذکر یا کسی اور امر معروف کی پیشین گوئی زمانہ استقبال میں ہو حیات مسیح کے لئے دلائل قطعیۃ الدلالت ہوگئیں اب تم کو متعدد ایسے صیغے قرآن مجید میں مل جاویں گے جو مولوی صاحب کی طرز استدلال کی طرح پر وہ سب کے سب حیات مسیح پر قطعیۃ الدلالت ہوجاویں گی۔ اب جو مشکلات مولوی محمد حسین وغیرہ کو بمقابل حضرت اقدس کے اس بحث میں پیش آرہی تھیں ہمارے مولانا صاحب نے وہ سب حل فرمادیں۔ سبحان اللہ استدلال ہو تو ایسا ہو۔ یہ فتح عظیم تم کو مبارک مبارک مبارک ؂ ایں کار از تو آیدو مرداں چنیں کنند۔ اب میں دو تین آیتیں اور مولوی صاحب کی طرف سے دلیل قطعی حیات مسیح پر لکھے دیتا ہوں جو بموجب طرز استدلال مولوی صاحب کے قطعی الدلالت ہیں مثلاً آیت ۱؂ ۱۴۱۹ جو مولوی صاحب نے خالص استقبال کے واسطے اول پرچہ میں لکھی ہے وہ حیات مسیح میں قطعی الدلالت ہے۔ کیوں قطعیۃ الدلالت ہے۔ یوں ہے کہ جو شخص مرد ہو یا عورت نیک عمل کرے درحالیکہ وہ مومن بھی ہو تو ہم زمانہ آئندہ میں البتہ زندہ رکھیں گے اس کو ساتھ زندگی پاکیزہ کے اور البتہ بدلا دیں گے ہم ان کو ثواب ان کا یہ معنے مولوی صاحب کے معنوں کے کچھ مخالف نہیں اور مولوی صاحب کے معنوں کے ساتھ جمع ہوسکتے ہیں اس طرح پر کہ زمانہ آئندہ سے زمانہ نزول عیسیٰ علیہ السلام مراد لیا جاوے۔ پس یہاں تک دلیل قطعی الدلالت کی تقریب تمام ہوچکی۔ اور مثلاً آیت ۲؂ ۱۳؍۱۷ حیات مسیح پر بھی قطعی الدلالت ہے۔ کیوں قطعی الدلالت ہے۔ یوں ہے کہ نون ثقیلہ تو اس میں موجود ہی ہے جو خالص زمانہ استقبال کے واسطے آتا ہے۔ پس یہ نصرت الٰہیہ مومنین صالحین اور مومنات صالحات کو زمانہ آئندہ میں ہوگی اور یہ معنے مولوی صاحب کے معنوں کے ساتھ جمع ہوسکتے ہیں اس طرح پر کہ زمانہ آئندہ سے زمانہ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد لیا جاوے۔ وہ تقریب دلیل کی تمام ہوگئی علیٰ ھٰذا القیاس۔ آیت ۳؂ جس کو مولوی صاحب نے واسطے اثبات قاعدہ نون ثقیلہ کے پرچہ اول میں لکھی ہے وہ بھی حیات مسیح پر بموجب طرز استدلال مولوی صاحب کے قطعی الدلالت ہوسکتی ہے۔