اسؔ وجوب ولزوم نحوی کے آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ عبارت اِلَّا یُؤْمِنُ نہایت ہی عمدہ ہے ایسی عمدہ عبارت کو چھوڑ کربجائے اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ اختیار کرنا ہرگز نہیں چاہئے تھا۔ ان ھذا لشیءٌ عجاب اور اگر کوئی کہے۔ کہ لیؤمنن میں بھی حرف تحضیض موجود نہیں ہے۔ پھر اس کو بیضاوی وغیرہ نے صیغہ تحضیض کا کیوں قرار دیا ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ اول تو بیضاوی نے لیؤمنن کو صیغہ تحریض کا نہیں کہا صرف کالوعید والتحریض کہا ہے۔ ثانیاً وجہ اس کی یہ ہے کہ مضارع مصدر بحرف تحضیض میں جو تحضیض ہوتی ہے اس میں طلب ضرور ہوتی ہے۔ چنانچہ فوائد ضیائیہ میں لکھا ہے۔ومعناھا فی المضارع الحض علی الفعل والطلب لہ فھی فی المضارع بمعنی الامر۔اور نون تاکید بھی امر مطلوب کی ہی تاکید کرتا ہے تکملہ وغیرہ میں لکھا ہے کہ نون التاکید لایوکد الا مطلوبا۔ پس اس مناسبت سے بیضاوی نے صیغہ لیومنن کو کا لوعید والتحریض قرار دیاہے بخلاف صرف یؤمن کے کہ وہ کسی طرح پر صیغہ تحریض کا نہیں ہوسکتا ہے یہ مولانا صاحب کا بڑا تحکم ہے کہ ایک قاعدہ اپنی طرف سے ایجاد فرما کر پھر اسکے بموجب قرآن مجید میں اصطلاح لگائی جاتی ہے۔ باقی اس اقول کا مقولہ آخر تک جو بیان فرمایا گیا ہے وہ محض بناء فاسد علی الفاسد ہے جس کا جواب اظھارًا للصواب مکررسہ کرر گذر چکا ہے۔ اب ضرورت اعادہ جواب کی نہیں ہے قولہ اس میں کلام ہے بچند وجوہ اول یہ کہ الخ۔اقول جناب والا بار بار وہی ایک بات فرمائے جاتے ہیں جس کا ابطال حضرت اقدس مرزا صاحب بدلائل بیّنہ فرماچکے ہیں۔ قولہ دوم یہ کہ یہ قراء ت ہمارے معنے کے مخالف نہیں ہے۔ الخ۔ اقول اول تو زمانہ نزول کا مراد لینا آپ کے اقرار مندرجہ اول پرچہ کے خلاف ہے اقرار یہ ہے کہ اس بحث میں صعود و نزول وغیرہ کا خلط نہ کیا جاوے گا۔ ثانیاً آپ کی طرز استدلال کے بموجب صرف اسی آیت لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ کے قطعی الدلالت ہونے کی کیا وجہ ہے۔ تمام قرآن شریف کے وہ صیغے مندرجہ آیات جن میں ایمان لانے کاذکر یا کسی اور امر معروف کی پیشین گوئی زمانہ آئندہ میں ہے وہ سب آیات حیات مسیح پر قطعی الدلالت ہوگئیں۔ تقریر اس کی بموجب استدلال جناب کے یوں ہوسکتی ہے۔ کہ یہ معنے ہمارے معنے کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ اس صورت میں یہ معنے ہیں کہ ہر ایک شخص اپنے مرنے سے پہلے زمانہ آئندہ میں ایمان لے آوے گا اور یہ معنے اول کے ساتھ