سے ؔ یہاں پر فعل مستقبل اصطلاحی ہے ملاحظہ فرماؤ ہوا مش شرح جامی کی۔ علیٰ ھٰذا التباس جس قدر عبارات کتب نحو کی جناب نے نقل فرمائی ہیں ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس صیغہ میں لام تاکید معہ نون تاکید کے ہو تو وہ بالضرور خالص استقبال کے واسطے ہی آئے گا۔ ہاں البتہ اس قدر ثابت ہوتاہے کہ صرف نون تاکیدکے داخل ہونے سے صیغہ مضارع کا خالص استقبال کے لئے اکثر جگہ ہوجاتا ہے پس جب تک کہ اجماع اکابر ائمہ نحویین کا در صورت اجتماع لام تاکید معہ نون تاکید کے اس بات پر آپ ثابت نہ کریں گے کہ سوائے زمانہ استقبال کے زمانہ حال کا مراد ہونا ممتنع ہے تب تک تقریب دلیل جناب کی محض ناتمام رہے گی واین ھذا یثبت من تلک العبارات المنقولۃ اور بعد اس اثبات کے بھی یہ گذارش کیا جاوے گا کہ صیغہ مستقبل کا مستعمل ہونا واسطے دوام تجددی یا استمرار کے علم بلاغت سے ثابت ہوچکا ہے وھذا یناقض دعواکم پھر یہ قاعدہ جناب کا اجد نہیں تو کیا قدیم ہے۔ قولہ خاکسار کی اصل دلیل اتفاق ائمہ نحاۃ کا ہے اس قاعدہ پر الخ اقول اتفاق اور اجماع کا تو ذکر ہی کیا ہے کسی ایک امام نحو کا قول بھی آپ نے ایسا نقل نہیں فرمایا جس سے تقریب دلیل جناب کی تمام ہوتی۔ کما مرشرحہ۔اور حضرت اقدس مرزا صاحب نے آیات قرآن مجید کی جو ماخذ تمام علوم کا ہے اس بارہ میں تحریر فرمادیں اور تفاسیر معتبرہ مثل مظہری وغیرہ سے ثابت کردیا کہ فان حقیقۃ الکلام للحال۔ قولہ۔ہاں آیات اس قاعدہ کی تائید کیلئے لکھی ہیں۔ الخ۔ اقول۔ ایہاالناظرین آیات سے بڑھ کر اور کس کا قول ہوگا اذاجاء نھر اللہ بطل نھر معقل ۔قولہ۔ مخفی نہ رہے الخ۔ اقول مولانا یہ ایک اور دوسرا قاعدہ علم نحو میں اس پہلے قاعدہ سے بھی زیادہ اجد آپ نے ایجاد کیا۔ بھلا کون سے قاعدہ نحو سے الا یؤمن صیغہ تحریض کا بغیر حرف تخصیص کے لائے ہوئے ہوسکتا ہے اور قسم کے جواب مثبت میں جو باتفاق نحویین کے نون تاکید کا آنا بطور وجوب ولزوم کے لکھا ہے اس کو بھی آپ نے توڑ دیا۔ خود فوائد ضیائیہ میں لکھا ہے۔ولزمت ای نون التاکید فی مثبت القسم ای فی جوابہ المثبت لان القسم محل التاکید فکرھوا ان یوکدوا الفعل بامر منفصل عنہ وھوالقسم من غیر ان یوکدوہ بمایتصل بہ وھو النون بعد صلاحیۃ لہ انتھی موضع الحاجتاور پھر باوجود توڑ دینے