ہوگیا ہے۔ پس صرف اس لحاظ سے حضرت اقدس نے بحکم آنکہ خصم راتابخانہ بائد رسانید ۔دلائل وفات مسیح کی اپنے رسائل میں مذکور فرمادیئے ہیں اور وہ بھی بطور نقض و معارضہ و تخلف وغیرہ کے جو سائل کا ہی فرض منصب ہے آپ اصول مناظرہ میں غور فرمایئے اور خلط مبحث نہ کیجئے۔ غرض کہ حسب آداب مناظرہ حضرت اقدس کسی طرح پر مدعی حقیقی اس مسئلہ متنازعہ فیہ میں نہیں ہوسکتے ہاں البتہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ان کا ہے اور وہ اسکے مدعی ہیں اور بار ثبوت اس دعوے کا ان کے ذمہ ضرور ہے۔ جس کو ازالۃ الاوہام وغیرہ میں مفصلاً اور مشرحاً بہ براہین بیان فرمایا ہے۔ مگر جب بحث حیات وممات مسیح ختم ہوچکے گی تب آپ ثبوت اس دعوے کا ان سے طلب فرماسکتے ہیں مگر اس وقت اس بحث کا چھیڑنا خلط مبحث کرنا ہے وہ بعد اس بحث حیات وفات مسیح کے ان سے ہوسکتی ہے و بس۔ قولہ اس قاعدہ کوجدیدقاعدہ کہنا نہایت محل استبعاد ہے ۔الخ۔ اقول مولانا حضرت اقدس مرزا صاحب نے تو آپ کے اس قاعدہ کو جدید ہی فرمایا تھا مگر ہیچمدان نے اس کا اجدّ ہونا ثابت کردیا اور کوئی محل استبعاد کا بھی نہیں رہا۔ میزان خوان اطفال بھی جانتے ہیں کہ صرف نون تاکید البتہ مضارع کو خالص مستقبل کردیتا ہے لیکن جب لام تاکید بھی موجود ہو جو واسطے حال کے آتا ہے اور نون تاکید بھی تو ایسے صیغے میں نہ کوئی شیخ زادہ اس بات کا قائل ہے کہ خالص استقبال کا ہونا ضروری ہے اور نہ کوئی سید زادہ یہ کہتا ہے۔ ازہری جو لکھتا ہے کہ لانھما تخلصان مدخولھما للاستقبال تو یہاں پر استقبال سے مراد صیغہ استقبال ہے نہ زمانہ استقبال۔ اور یہ بات تو زبان اطفال میزان خوان پر بھی جاری ہے کہ صیغہ حال ہمچو صیغہ استقبال است۔ اور ازہری نے جو اس مسئلہ کی دلیل بیان کی ہے اس سے بھی مطلب ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر مراد اس کی زمانہ استقبال ہوتی تو کہتا کہ ذلک ینافی المضی والحال آگے ازہری نے جو یہ لکھا کہ ولایجوز تاکیدہ بھما اذاکان منفیا اوکان المضارع حالا۔ الخ۔ تو اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ اگر مضارع سے خالص حال مراد ہو اور استقبال مراد نہ ہو تو اس صورت میں صرف لام تاکید بغیر نون کے مضارع پر آوے گا اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ اگر حال و استقبال دونوں مراد ہوں تو بھی لام تاکید اور نون تاکید سے اس مضارع کو موکد نہ کریں گے۔ خود فوائد ضیائیہ کے حواشی تکملہ عبدالحکیم وغیرہ میں اس بات کی تصریح کردی گئی ہے کہ مراد فعل مستقبل