متمسکا بشاھدیدل علی عدم استحقاقہ لاستدلال بہ وھواستلزامہ فسادا اما اعم من ان یکون تخلف المدلول عن الدلیل اوفسادًا اٰخر مثل لزوم المحال وغیرہ الی آخرہ پس اگر حضرت اقدس مرزا صاحب نے جو منصب سائل کا رکھتے ہیں یہ ابحاث اپنے رسائل میں درج فرمائی ہیں تو ان کے درج کرنے سے وہ مدعی کیونکر ہوگئے اور جو فرض منصب سائل کا ہے اگر اس کو حضرت اقدس بموجب آداب مناظرہ کے بجا لائیں تو یہ سب کام ان کا عبث کس اصل مناظرہ کے رو سے ہوگیا۔ اور اگر کہو کہ حضرت اقدس مرزا صاحب کے مقابل ان رسائل میں مدعی کون ہے جو مرزا صاحب سائل اور مانع ہوگئے تو جواب اس کا یہ ہے کہ وہ تمام مخالفین حضرت اقدس کے جو دعویٰ حیات مسیح کا کرتے ہیں وہی مدعی ہیں جن کے خلاف میں حضرت اقدس نے ان رسائل میں کلام کیا ہے اور یہی تعریف ہے سائل کی کہ السائل من تکلم علی ماتکلم بہ المدعی اعم من ان یکون مانعا اوناقضا اومعارضا۔ اور یہ جو آپ نے فرمایا کہ بالجملہ بارثبوت وفات مسیح دو حیثیت سے آپ کے ذمہ ہے الخ یہ ایک التباس حق کا ساتھ غیر حق کے یا توقصداً کیا گیا ہے یا بسبب عدم امعان نظر کے اصول مناظرہ میں پیدا ہوا ہے اگر اصول مناظرہ میں امعان نظر فرمایا جاوے تو یہ التباس رفع ہوجاوے گا۔ مولانا صاحب گذارش یہ ہے کہ جب مانع اور سائل کسی مدعی کی دلیل کا نقض و منع کرے گا۔ اگر وہ منع بلا سند ہے تو صرف لا نسلم کہے گا اور اگر اس منع اور نقض کے ساتھ کوئی سند یا شاہد مذکور ہو تو وہ سند وغیرہ بالضرور مشتمل مقدمات پر بھی ہوگی لیکن وہ مانع یا ناقص و معارض اس اشتمال مقدمات سے حقیقتاً مدعی اس بحث متنازعہ فیہ میں نہیں ہوسکتا۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ دعویٰ مدعی اول کا مخالف سنت اللہ کے ہو اور منع خصم کے موافق سنت اللہ کے جیسا کہ مانحن فیہ میں ہے پس وفات مسیح کو جو آپ اصل دعویٰ حضرت اقدس کا فرماتے ہیں بموجب آداب مناظرہ کے یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ اصل دعویٰ نہیں یہ تو اصل فطرۃ اللہ ہے جس کے قائل اور تمام جگہ آپ بھی ہیں اور نہ وفات مسیح کی حضرت اقدس کی دلیل کا کوئی ایسا مقدمہ ہے جس کے اثبات کی ان کو ضرورت ہو کیونکہ جو امر فطرت اللہ اور سنت اللہ کے موافق ہوتا ہے وہ ظاہر بمنزلہ بدیہی کے ہوتا ہے اسکے اثبات کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جب کہ آپ اس سنت اللہ کے ایک خاص مقام میں منکر ہوگئے ہیں تو بحیثیت انکار جناب کے وہ وفات مسیح ایک مقدمہ اعتباری