قطعیۃؔ الدلالت فی نفسہ نہیں رہتی۔ لیکن اب گذارش یہ ہے کہ ہر چہار آیات کو تو چاروناچار خود جناب نے ادلہ ہونے سے خارج کیا اور آیت اولیٰ کو دنیا بھر کے مفسرین متشابہ اور ذوالوجوہ کہہ رہے ہیں وہ تو کسی طرح پر بھی حیات مسیح میں قطعیۃ الدلالت ہو ہی نہیں سکتیکما مرشرحہ۔ پس اب جناب کے پاس حیات مسیح پر کونسی دلیل باقی رہی۔ اگر موجود ہو تو پیش کیجئے۔ ورنہ چونکہ حیات و ممات میں کوئی واسطہ نہیں ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ سے خوف کرکر اب تو حیات مسیح کے دعوے سے رجوع فرمایئے۔ قولہ اس میں کلام ہے بچند وجوہ الی قولہٖ تو یہ کام عبث آپ نے کیوں کیا۔ اقول اناللہ وانا الیہ راجعون ۔جب کہ مولانا جیسے فاضل اجل قواعد علم مناظرہ کو قلم انداز فرماویں گے اور ملحوظ نظرنہ رکھیں گے تو اب اس ہیچمدان کو کس سے امید ہے کہ اس مباحثہ میں حسب اصول مناظرہ گفتگو کرے چو کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی۔ ایہا الناظرین ظاہر ہے کہ حضرت اقدس مرزا صاحب اس مباحثہ میں سائل اور مانع کا منصب رکھتے ہیں خصوصاً مولوی صاحب جیسے مدعی کے مقابلہ میں کہ دعویٰ بھی ان کا خلاف سنت اللہ اور فطرت اللہ کے واقع ہوا ہے پس اگر حضرت اقدس نے توضیح مرام وغیرہ میں یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح بسبب فوت ہوجانے کے دنیا میں نہ آویں گے اور اس منع پر کچھ سند وغیرہ بیان کی ہے تو کیا اس منع وغیرہ سے حضرت اقدس بموجب اصول مناظرہ کے مدعی حقیقی بن گئے۔ سائل اور مانع کا تو کام ہی یہی ہے کہ منع وغیرہ کا ایراد ادلہ مدعی پر کرے خواہ مناقضہ اور نقض تفصیلی کے طور پر ہو بلاسند یا مع السند کے یا معارضہ کے طور پر ہو یا نقص اجمالی کی طرز پر وغیرہ وغیرہ جس کی تفصیل رسائل صغیر و کبیر علم مناظرہ میں لکھی ہے پس اگر سائل ان طرق مناظرہ اور آداب مباحثہ سے بحث کرے تو کیا وہ فی الحقیقت مدعی ہوجاوے گا ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ رشیدیہ وغیرہ میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے۔السائل من نصب نفسہ لنفی الحکم الذی ادعاہ المدعی بلانصب دلیل علیہ وقد یطلق علی ماھو اعم وھوکل من تکلم علی ماتکلم بہ المدعی اعم من ان یکون مانعا اوناقضا اومعارضا۔اور اسی میں لکھا ہے المنع طلب الدلیل علی مقدمۃ معینۃ ویسمی ذلک مناقضۃ و نقضا تفصیلیا۔ والسند مایذکر لتقویۃ المنع ویسمی مستندا۔ اور اسی میں لکھا ہے۔ النقض ابطال الدلیل بعد تمامہ