نونؔ تاکید۔ اس کو تو حضرت اقدس نے ایسا توڑا ہے کہ اس سے زیادہ ہرگز متصور نہیں کیونکہ اس بات کو سب علماء وطلبہ جانتے ہیں کہ تمام اصول علوم رسمیہ کے اور جملہ قواعد اور فنون درسیہ کے جو کتب فن میں ممہد اور مشید کئے جاتے ہیں ان کے اثبات اور استحکام کے واسطے شواہد قرآن مجید سے بڑھ کر اور کوئی شاہد نہیں ہے نہ امثال و اشعار جاہلیت کا وہ مرتبہ ہے اورنہ اقوال عرب عرباء کا وہ رتبہ مثل مشہور ہے کہ اذاجاء نھر اللّٰہ بطل نھر معقل جس قاعدہ کے واسطے کوئی آیت قرآن مجید کی شاہد مل جاوے تو پھر اس میں نہ سیبویہ کی حاجت ہے نہ اخفش کی نہ فرّا کی ضرورت ہے نہ زجّاج کی اس جگہ سب فَرَّ یَفِرُّ ہوجاتے ہیں اور اسکے مقابل میں زجاجِ زجاّج بھی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے اور قول مبرد بھی محض بارد ہوجاتا ہے الصباح یغنی عن المصباح کا مضمون صادق آتا ہے۔ قرآن مجید میں جب کہ بقراء ت متواترہ ۱ بجائے والمقیمون الصلٰوۃ واردہو گیا اور ۲ بجائے ان ھذین لساحرین اور ۳ بجائے والصابئین قراء ت متواترہ میں آگیا۔ تو نہ فرّا کی چلی نہ اخفش کی۔ سب کے سب تاویلات رکیکہ بنارہے ہیں اور کچھ نہیں ہوسکتا اور اصل وہی ہے جو حکیم امت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے فرمایا کہ مخالف روزمرہ مشہورہ ہم روز مرہ است الحاصل یہ جناب والا کا بھی اقرار ہے جو پرچہ ثالث میں مندرج ہے کہ اصول فقہ اور اصول حدیث جملہ علوم خادم کتاب و سنت کے ہیں اور کتاب اللہ سب کی مخدوم ہے۔ اب یہ گذارش ہے کہ باوجودیکہ حضرت اقدس مرزا صاحب نے متعدد آیات قرآن مجید اور عبارت تفاسیر معتبرہ سے واسطے جرح کرنے آپ کے نون تاکید کے تحریر فرمائی ہیں۔ پھر آپ یہ کیا معمے فرماتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب نے نہ تو کوئی عبارت کسی کتاب نحو کی نقل کی اور نہ ان عبارات میں جو خاکسار نے نقل کی تھیں کچھ جرح کی۔ ۴ قولہ اور یہ امر بھی مخفی نہ رہے کہ میری اصل دلیل الٰی قولہ دوسری آیات محض تائید کیلئے لکھی گئی ہیں الخ ۔ اقول جب کہ آیت ۵ جناب کے نزدیک قطعی الدلالت ہے تو دیگر مویدات کے پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے اسی سے ثابت ہوا کہ آیت مذکور جناب کے نزدیک قطعی الدلالت نہیں ہے ورنہ تائید کی کیا ضرورت ہوتی ہذا خلف۔ خلاصہ یہ کہ اگر آیت مذکورہ کو قطعیۃ الدلالت کہتے ہو تو دیگر مویدات کی ضرورت نہیں اور اگر تائید اس کی دوسری آیات سے کرتے ہو تو خود وہ آیت