مولوؔ ی محمدؐ بشیر صاحب کے پرچہ ثانی پر سرسری نظر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمد لولیّہ والصّلٰوۃ علی نبیّہ۔ امابعد واضح خاطر عاطر ناظرین ہو کہ پرچہائے ثلاثہ محررہ مولوی صاحب کا جواب جو حضرت اقدس مرزا صاحب سلمہ نے اپنے پرچوں میں دیا ہے وہ ایسا کافی و شافی ووافی ہے کہ ہوتے اسکے اب کسی کے جواب کی حاجت نہیں رہی۔ ناظرین جب انصاف سے ملاحظہ فرماویں گے تو یہ امر ان پر خودبخود واضح ہوجاوے گا۔ کسی کے جتلانے اور بتلانے کی کیا حاجت ہے۔ مثل مشہور ہے مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطا رگوید۔ لیکن چونکہ مولوی صاحب نے بھوپال میں واپس تشریف لا کر اپنی فتح یابی کا اعلان کیا اور اس پرُ طرّہ یہ ہوا کہ مکررسہ کرر اس ہیچمدان سے درخواست مباحثہ فرمائی گئی اور مجالس وعظ میں ہل من مبارز کا ڈنکابجایا گیا اور اس عاجز ہیچمدان کا نام لے لے کر طلب مباحثہ کیا گیا تو اس عاجز پر بھی واجب ہوگیا کہ مولانا صاحب کے امر واجب الاذعان کی اطاعت کرے اور مولوی صاحب کی فتح یابی پر کچھ نظر کرے کہ فی الحقیقت وہ فتح یابی ہے یا محض آب سرابی ہی ہے اس میں دونوں امر مذکورہ حاصل ہوتے ہیں ؂ چہ خوش بود کہ برآید بیک کرشمہ دوکار۔ لہٰذا مولوی صاحب کے پرچہ ثانی پر کچھ اندکے نظر کرتا ہوں۔ قولہ واضح ہو کہ جناب مرزا صاحب نے بہت امور کا جواب اپنے پرچہ میں نہیں دیا الخ۔ اقول حضرت اقدس مرزا صاحب نے آپ کے مضمون کا جواب ایسا کافی و شافی دیا ہے کہ اس سے بڑھ کر بجز طوالت ُ پر ملامت کے اور کچھ متصور نہیں۔ ناظرین صورت الحال کو دیکھ کر خودبخود انصاف فرما لیویں گے ۔مثل مشہور ہے کہ اصدق المقال مانطقت بہ صورۃ الحال اور آپ کی ابحاث ثلاثہ میں جو اصل اور عمدہ بحث تھی یعنے