بھیؔ توفّی بطورانامت کے جو مذکور ہے وہ رات بھر تک ہوتی ہے نہ دو ہزار برس تک بلکہ اُسمیں تو تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ رات میں سُلادیتا ہے اور دن میں اُٹھا دیتاہے ۱۳؍۷ ۱؂ اوراگر بطور حکماء کے بھی اس بارہ میں نظر کی جاوے تو بھی یہی مطلب جو ہم نے تفسیر آیات مذکور ہ میں لکھا ثابت ہوتا ہے چنانچہ حواشی بیضاوی میں لکھا ہے ۔ قال الزعفرانی ناقلا عن الامام النفس الانسانیۃ جوھر مشرق روحانی اذا تعلق بالبدن حصل ضوء ہ فی جمیع الاعضاء وھو الحیٰوۃ ففی وقت الوفات ینقطع ضوء ہٗ عن ظاھر البدن وباطنہ وذٰلک ھو الموت و اما فی وقت النوم فینقطع ضوء ہٗ عن ظاھر البدن من بعض الوجوہ ولا ینقطع عن باطنہ فثبت ان النوم والموت من جنس واحد لٰکن الموت انقطاع تام والنوم انقطاع ناقص انتہٰی ۔ پس اگر انقطاع ناقص ہوتا تو ضرو ر بحکم وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰی کے حضرت عیسیٰ ؑ جاگ اُٹھتے۔ جبکہ دو ہزار برس سے ابھی تک نہیں جاگے تو معلوم ہوا۔ کہ ۲؂کے مصداق ہو گئے ہیں اور انقطاع تام ہو چکاہے۔قولہ اور قسم دوم کا جواب الیٰ قولہ ان آیات کی مخصص واقع ہوئی ہے۔ اقول اس آیت کا حال تو معلوم ہو چکا غایت الامر یہ ہے کہ حیاتِ مسیح میں متشابہ ہے پھر کیونکر مخصص ہو سکتی ہے۔ علاوہ یہ کہ جب وفات عیسیٰ ؑ بن مریم بطور اخبار کے ثابت ہو چکی تو اب اس آیت یاکسی اور آیت سے حیات کیونکر ثابت ہو گی یہ تو اخبار ماضیہ کا نسخ ہوا جاتا ہے اور بموجب قواعد اصول کے اخبار میں نسخ ہرگز جائز نہیں ہے کیونکہ ایسے نسخ سے کلام باری تعالیٰ میں کذب صریح لازم آتاہے۔ واللّازم باطل فالملزوم مثلہ۔ قولہ صحیح معانی ان آیات کے وہ ہیں جو تفاسیر معتبرہ میں مذکور ہیں۔ الخ اقول جو معانی ان آیات کے حضرت اقدس مرزا صاحب نے تحریر فرمائے ہیں وہ تفاسیرمعتبرہ میں لکھے ہوئے ہیں۔ معہذا علوم رسمیہ جو خادم کتاب ہیں اُن کے بھی موافق ہیں۔ جب جناب جواب تفصیلی ازالۃ الاوہام کا تحریر فرماوینگے اور اُن معانی حقہ کا ابطال کرینگے تو انشاء اللہ تعالیٰ مفصلًا و مشرحًا احقاق حق کیاجاوے گا۔ وَاٰخِرُ دَعْوانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔