معنے ؔ جو لکھے گئے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اصل معنے توفی کے پُورا حق لے لینے کے ہیں۔ تو اس سے مدعا جناب کا کب ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کونسا حق اپنا حضرت عیسیٰ ؑ سے پورا لیا تھا۔ جس کی نسبت فرمایا گیا کہ یا عیسٰی انّی متوفّیک یعنے اے عیسیٰ ؑ مَیں تجھ سے اپنا حق پورا لینے والا ہوں۔ یا حضرت عیسیٰ ؑ نے جویہ فرمایا کہ فلمّا توفّیتنی یعنی جبکہ تو نے اپنا حق پُورا لے لیا۔ یہ معنے ہیچمدان کی سمجھ میں بالکل نہیں آتے اور ایک تحریف سی معلوم ہوتی ہے۔ اوراگر کہاجاوے کہ توفی کے معنے میں جو لفظ حق کا لکھا ہے اُس سے تجریدکر لی گئی ہے اور قبض تام کے معنے بھی آتے ہیں۔ چنانچہ قسطلانی سے ہم نے نقل کیا کہ اخذ الشئ وافیًا تو یہاں پر یہ معنے ہوئے کہ حضرت عیسٰی ؑ کو رُوح مع الجسد سے پُورا لے لیا۔ تو یہ گذارش ہے کہ نص میں اس تاویل رکیکہ کی ضرورت ہی کیاہے علاوہ یہ کہ قسطلانی نے بھی خود اقرار کر لیا کہ والموت نوع منہ اس اقرار سے تو صاف و صریح ثابت ہو گیا کہ موت میں بھی قبض تام ہوتاہے وھٰذا یخالف دعواکم پس قسطلانی سے بھی یہی ثابت ہؤا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ہو چکی رُوح مع الجسد کا اُٹھایاجانا تو کسی لغت سے بھی ثابت نہ ہؤا۔ اور سلّمناکہ توفی بمعنے اِنامت یعنے سُلا دینے کے قرآن مجید سے ثابت ہے مگر اس معنی کے اثبات سے ما نحن فیہ میں جناب کا کیامطلب ہے بلکہ جو آیات کہ جناب نے واسطے اثبات اس اپنے مطلب کے ذکر فرمائی ہیں وہ بھی مدعا جناب کے مخالف ہیں کیونکہ بموجب ان آیات کے معنے توفّی کے اگر انامت کے ما نحن فیہ میں تسلیم بھی کئے جاویں تو پھر بھی آیات مدعا جناب کو نفی بھی کرتی ہیں کیونکہ اگر حضرت عیسٰی ؑ کی توفی بطور انامت کے واقع ہوئی ہوتی تو ضرور تھا کہ پہر دو پہر میں حد درجہ ایک دو دن میں جاگ اُٹھتے اور ۱؂ کا مضمون پَیدا ہو جاتا یہ کیسے اِنَامت ہوئی۔ کہ قریب دو ہزار برس کے ہو گئے ابھی تک۲؂ کا مضمون واقع نہیں ہؤا۔ اس سے تو صریح یہی معلوم ہوا کہ۳؂ کا ہی مضمون واقع ہو چکا ہے ۔ آیت میں دو صورتیں مذکور ہیں ایک ارسال دُوسری امساک در صورت انامت کے ارسال واقع ہوتا ہے اور در صورت موت کے امساک جب ہم دیکھتے ہیں کہ قریب دو ہزار برس سے امساک ہی امساک ہے اور ارسال نہیں ہے تو بالضرور ماننا پڑے گا اسی صورت کو جس میں امساک ہوتا ہے اور وہ مَوت ہے نہ انامت۔ اور سورہ انعام کی آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اُس میں