یہؔ ہیچمدان شرح اس کی مفصل لکھ چکا اور حضرت اقدس مرزا صاحب نے ازالہ اوہام میں اور نیزان پرچوں میں بکثرت مذکور فرمائے ہیں وہ ملاحظہ فرمائے جاویں پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ باوجود موجود ہونے صوارف کثیرہ کے حقیقی ہی معنے مراد لئے جاویں اور حدیث مرسل جو یہ لکھی گئی کہ قال الحسن قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم للیھود ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یَوم القیامۃ۔ اسکی نسبت یہ گذارش ہے کہ اوّلًا تو اس حدیث کی تخریج فرمادی جاوے کہ یہ حدیث کس کتاب حدیث میں لکھی ہے۔ ثانیًا تعدیل و توثیق اسماء الرجال سب رواۃ اسناد کی کی جاوے۔ ثالثًا بعد طے کرنے ان مراتب کے یہ حدیث مرسل ٹھہرے گی جو بمقابل احادیث صحاح متصل مرفوع کے جو ازالہ وغیرہ میں لکھی ہیں ساقط الاعتبار رہے گی۔ رابعًا اگر کوئی حدیث صحیح متصل مرفوع اسکی معارض بھی نہ ہو تو بھی بعد طے کرنے ان مدارج اربعہ کے حدیث مرسل کے خود حجت ہونے میں کلام ہے۔ سب اصول کی کتابوں میں لکھا ہے فذھب الجمھور الی ضعفہ وعدم قیام الحجۃ یہ نہیں معلوم مولانا صاحب نے اس حدیث کو ایسے مقام میں جہاں دلیل قطعیۃ الدلالت مطلوب ہے اور اسی کی بحث ہو رہی ہے کیوں مذکور فرمایا ہے۔ ایسے اقوال یا احادیث ضعیفہ جو بعض تفاسیر وغیرہ میں لکھے ہیں تو اُن کو باب اعتقادیات میں کیا دخل ہے۔ ہیچمدان کے ایک محب مکرّم اخونا المعظم جناب حکیم نور الدین صاحب کو ایک خط موسومہ احقر میں تحریر فرماتے ہیں کہ امام شعرانی نے طبقات کبریٰ جلد دوم صفحہ ۴۴ میں لکھاہے۔وکان یقول ان علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رفع کما رفع عیسیٰ علیہ السلام وسینزل کما ینزل عیسٰی علیہ السلام ثم قال الشعرانی ھٰکذا کان یقول سیّدی علی الخواصؓ پس جومعنے نزول علی بن ابی طالب کے ہیں وُہی معنے نزول عیسیٰ ؑ بن مریم کے ہیں وعلٰی ہٰذا القیاس رفع کو سمجھنا چاہیئے۔ قولہ تو اب یہ آیت صارف ہو گئی آیات مذکورہ کے معنے حقیقی سے۔ اقول یہ امر ثابت ہو چکا کہ آیات اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ اور فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ وغیرہ وفات مسیح بن مریم میں نص صریح اور محکم ہیں۔ اور آیت لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ بسبب چند در چند ذو الوجوہ ہونے کے متشابہ ہے اور متشابہ کسی طرح پر محکم کے صارف عن الاحکام نہیں ہو سکتے اور اشارۃ النص بھی بمقابل عبارۃ النص کے وقت تعارض کے ساتھ ساقط ہو جاتی ہے اورکتب لغت سے تَوَفّٰی کے