جو ؔ حسن حضرت اقدس مرزا صاحب نے بدلیل بیان فرمایا ہے وہ کیاتھوڑا ُ حسن ہے جو اس خیالی حسن کو واقعی خیال کر لیا جاوے۔ قولہ دلیل سوم الیٰ آخرہ الدلیل۔ اقول مولانا صاحب ۱ کی ضمیر کا مرجع جو جناب نے رُوح مع الجسد کو قرار دیا۔یہ مرجع ضمیر تو آپ ہی کے ما فی الضمیر میں ہے۔ ہیچمدان نے تو ما قبل اس آیہ کے تمام رکوع میں تفحص کیا ۔ مگر کسی جگہ رُوح مع الجسد مذکُور نہیں۔ یہ کیا معمّا جناب نے ارشاد فرمایا۔ البتہ مسیح عیسیٰؑ بن مریم تو مذکور ہے اور وُہی مرجع کی ضمیر کا ہے اور وہی مرجع ۲ کا۔ ظاہر ہے کہ اعلام و اسماء کا اطلاق جیسا کہ روح مع الجسد پر ہوتا ہے ویسا ہی صرف روح بلا جسد پر بھی ہوتا ہے بلکہ حقیقت انسانیہ کا مصداق تو وُہی رُوح انسانی ہے۔ ولنعم ما قال المولوی
آں توئی کہ بے بد ن داری بدن پس مترس از جسم جاں بیرون شدن
معنے آیت کے یہ ہوئے کہ اُٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰؑ کو اپنی طرف یعنی اسکی رُوح کو اُٹھا لیا۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایاتھا کہ۳ پس اس آیت کو خواہ آیت اوّل کے ساتھ انضمام کیجئے یا نہ کیجئے مدعا کو ہرگز مستلزم نہیں اور تقریب دلیل کی محض نا تمام ہے بلکہ اس آیہ سے تو عکس مُدّعا جناب کا ثابت ہو تا ہے جیسا کہ حضرت اقدس مرزا صاحب سلمہ‘ نے مفصلًا بیان فرمایا ہے۔ قولہ دلیل چہارم الیٰ آخر الدلیل۔ اقول مولانا صاحب جناب کا اقرار پرچہ اوّل میں مندرج ہے کہ اس مباحثہ میں بحث صعود و نزول عیسیٰ ؑ وغیرہ کا خلط نہ کیا جاویگا پھر یہاں پر مناط استدلال خودنزول کو کیوں قرار دیا گیا۔ اور یہ کیوں فرمایا گیا کہ ( پس متعین ہوا کہ مراد نزول ہے) سلمنا کہ نزول ہی مراد ہے لیکن نزول بار ثانی مراد ہونے کی وجہ وجیہ نہیں ہے وہی نزول بار اوّل کیوں نہ مراد ہو جس کو جناب نے حدوث سے تعبیر کیا ہے اور اس احتمال حدوث کو جن وجوہ سے جناب نے باطل کیا ہے ان وجوہ کو حضرت اقدس مرزا صاحب نے بدلائل باطل کر دیا مطالعہ فرمائی جاویں تحریرات۔ان کی حاجت اعادہ ذکر کی نہیں اور تمام قرآن مجید میں لفظ نزول سے نزول بار اوّل یعنے حدوث مراد لیا گیا ہے ملاحظہ فرماؤ۔ ازالہ اوہام اور اعلام الناس کو۔ قولہ معنے حقیقی ابن مریم کے عیسیٰ ؑ بن مریم کے ہیں اور صارف یہاں پر کوئی موجود نہیں۔ اقول جناب مولانا صاحب ایک صارف کا کیا ذکرہے متعدد صارف موجود ہیں۔ یاد کرو فامّکم منکم وامامکم منکم وغیرہ جو سابق میں