ومعنی الاستلزام ظاھرواِن ارید بہ التعمیم کما ھو الظاھر حمل الاستلزام علی المناسبۃ المصححۃ للانتقال لا علی امتناع الانفکاک۔ اور اصولیین نے تعریف دلیل کی یہ لکھی ہے ھو ما یمکن التوصل لصحیح النظر فی احوالہ الیٰ مطلوب خبری کا لعالم مثلًا فانہ من تامّل فی احوالہ لصحیح النظر بان یقول انہ متغیر وکل متغیر حادث وصل الی مطلوب خبری وھو قولنا العالم حادث فعند الاصولیین العالم دلیل وعند الحکماء مجموع العالم متغیر وکل متغیر حادث۔ واضح خاطر ناظرین ہو کہ مولوی صاحب نے اوّل دلیل کا نام تو قطعیۃ الدلالت فی نفسہٖ رکھا ہے اور بقیہ اربعہ کا نام ظنّی رکھ کر قطعیۃ الدلالت لغیرہٖ فرمایا ہے اور غیر سے مراد وہی دلیل اوّل ہے ۔ پس یہ دلائل اربعہ ظنّیہ دلیل اوّل کے انضمام سے قطعیۃ الدلالت کیونکر ہو گئیں۔ اگر دلیل اوّل ان دلائل کے واسطے بمنزلہ مقدمہ دلیل کے گردانی گئی ہے کہ المقدمۃ ما یتوقف علیہ صحۃ الدلیل اعم من ان یکون جزء امن الدلیل اولا۔ تو اس صور ت میں دلیل اوّل دلیل نہ رہی بلکہ مقدمہ دلائل اربعہ ہو گئی۔ ہاں اسکا ترتیب کرنا جناب پر باقی رہا اور خواہ جناب اس کو مرتب فرماویں یا نہ فرماویں ہم تو اُس پر نقض تفصیلی کر چکے۔ اور اگر وہ خود فی نفسہٖ ایک دلیل جُداگانہ ہے تو یہ دلائل نہ ر ہے بلکہ حسب اصطلاح نظار کے امارت ہو گئے۔ لانہ یقال لملزوم الظن امارۃ لادلیل اور یہ اصطلاح جناب کی حسب اصطلاح اصول فقہ کے بھی درست نہیں معلوم ہوتی۔ اگر درست ہوتی تو مثلًا خفی کو جو ظاہر کے مقابل ہے ظاہر لغیرہٖ اور مشکل کوجو نص کے مقابل ہے نص لغیرہٖ اورمجمل کوجو مفسر کے مقابل ہے مفسر لغیرہٖ اور متشابہ کو جو محکم کے مقابل ہے محکم لغیرہٖ بھی کہہ دیا کرتے اور تمام اقسام نظم قرآن مجید کے جو اصولیین نے لکھے ہیں انکا رجوع کسی جگہ پر ایک قسم کی طرف ہو جایا کرتا۔ اگر اس قسم کا مسئلہ اصول فقہ میں مندرج ہو تو ازراہ عنایت ذرہ وضاحت سے بیان فرما دیا جاوے تاکہ ہیچمدان کی سمجھ میں آجاوے اور جو حُسن کہ جناب نے اپنے معنے کے بموجب کلام فی الکہولت میں ارشاد فرمایا ہے وہ حُسن تو سب کچھ سہی مگر اُس حُسن کا ثبوت ایسے مقام پر کتا ب و سنت صحیحہ سے بھی تو ہونا ضروری ہے۔ ورنہ ایک خیالی حُسن ہوگا جیسے شعراء کو اپنے خیالات اور مضامین شاعری کا حُسن معلوم ہوا کرتا ہے اور اس کلام فی الکہولت کی نسبت