بعدؔ نزولہ سبع سنین ومازلت التّعجب منہ مع مزید حفظہ واتقانہ وجمعہ للمعقول والمنقول حتّٰی رأیتہ فی مرقاہ الصعود رجع عن ذٰلک انتہیٰ ۔ اورحسین ابن الفضل سے جو یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وفی ھٰذہ الاٰیۃ نص فی انہ علیہ الصلٰوۃ والسلام سینزل الی الارض۔ اگر نص سے مراد وہی نص ہے جو مصطلح اہلِ اصول ہے تو آپ ہی فرماویں کہ کلام فی الکہولت واسطے نزول من السماء بجسدہ العنصری کے کیونکر نص ہو گیا۔ اور اگر نص سے کچھ اور مراد ہے تو بیان ہو اس میں نظر کی جاوے گی۔ اورپھر یہ گذارش ہے کہ جناب والا نے آغاز پرچہ اوّل میں یہ اقرار و عہد کیا ہے کہ اس مباحثہ میں بحث صعود و نزول وغیرہ کاخلط نہ کیاجاویگا۔ پھر یہاں پر اس اقرار وعہد کا نقض آپکی جانب سے کیوں ہوا۔ ۱؂ ثالثًا کیا ایسی پیشین گوئیوں کی حقیقت کما ینبغی ایسی ہی اجتہادات اور اقوال علماء سے قبل از وقوع محقق طورپر اور قطعی و یقینی معلوم ہو سکتی ہے۔ جیسے اقوال کہ جناب نے اس دلیل دوم میں بیان فرمائے ہیں۔ نہیں نہیں مجھ کو خوب یاد آیا مولاناصاحب تو خود اس دلیل دوم کی نسبت فرما چکے ہیں کہ یہ دلیل فی نفسہٖ قطعیۃ الدلالت حیات مسیح پر نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہاں پر ایک استفسار باقی رہا وہ یہ ہے کہ جناب والا یہ بھی فرماتے ہیں کہ (مگر بانضمام آیہ ۲؂ کے قطعیۃ الدلالت ہو جاتی ہے ) اب استفسار یہ ہے کہ اصول حدیث کے رُو سے صحیح لذاتہ و صحیح لغیرہ یا حسن لذاتہ و حسن لغیرہ ۔ تو بالضرور ایک اصطلاح مقررہ اصول حدیث کی ہے ۔ شائد اسی بناء پر جناب نے قطعی الدلالت کی دو قسمیں ارشاد فرمائیں اوّل قطعیۃ الدلالت فی نفسہٖ ۔دوم قطعیۃ الدلالت لغیرہٖ۔یہ اصطلاح یا علم مناظرہ کی ہو گی یا شائد علم اصول فقہ کی ہو۔ لہٰذا گذارش ہے کہ جس کتاب علم مناظرہ یا اصول فقہ میں دلیل کی یہ دونوں قسمیں لکھی ہوں بہ تصحیح نقل ارشاد فرمائی جاویں۔ کیونکہ ہیچمدان کو یہ اصطلاح نہیں معلوم۔ نظار نے تو تعریف دلیل کی یہ لکھی ہے۔ والدلیل ھو المرکب من قضیتین للتادی الی مجہول نظری۔ اور بعض نے یہ لکھی ہے ما یلزم من العلم بہ العلم بشیء اٰخر یا ما یلزم من التصدیق بشیء اٰخر بطریق الا کتساب۔ رشیدیہ میں لکھا ہے فان حمل ذٰلک التعریف علی تعریف الدلیل القطعی البین الانتاج