عنؔ ابلیس ۔ ۱؂ مولا نا صاحب صیغہ لاغوینّھم اجمعین میں آپکا نون ثقیلہ بھی موجود ہے اور قرائن الیٰ یوم یبعثون اور الیٰ یوم الوقت المعلوم وغیرہ بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے یہاں پر خالص زمانہ استقبال مراد ہے۔ الحاصل خلا ف مشیّت الٰہیّہ ایسا زمانہ کیونکر ہو سکتا ہے جس میں سب لوگ ہدایت پر ہو جاویں اورکوئی گمراہ و کافر بسیط الارض پر موجود نہ رہے پس میری دانست ناقص میں ایسا کچھ فرمانا آپ کے شان سے نہایت مستبعد ہے نہ حضرت مرزا صاحب کا فرمانا۔ انصاف کو ہاتھ سے نہ دیجئے۔ مثل مشہور ہے الانصاف احسن الاوصاف قولہ دلیل دُوسری الخ۔ اقول مولانا اوّل تو یہ گذارش ہے کہ کہلؔ کے معنے میں کسی لغت کی کتاب میں دو ہزار برس کا یا زیادہ کا زمانہ بھی لکھا ہے یا نہیں اگر کسی کتاب میں لکھا ہو تو نقل فرمایاجاوے اور اگر کہیں نہیں لکھا تو پھر دو ہزار برس یا زیادہ کا زمانہ اسکے مفہوم میں کیونکر معتبر ہو سکتا ہے۔ ثانیًا جس قدر کتب تفاسیر کی عبارات سے جناب نے استدلال کیا ہے کسی تفسیر میں رفع قبل التکہل بجسدہ العنصری علی السماء کا ثبوت کسی آیت یا حدیث صحیح مرفوع متصل سے نہیں دیا پھر جب تک کہ رفع کذائی قبل التکہل دلیل قطعی سے ثابت نہ ہو لے تو دلیل آپکی مستلزم مدعی کو کیونکر ہو سکتی ہے۔ فتح البیان میں لکھا ہے۔ واورد علیٰ ھٰذا عبارۃ المواھب مع شرحھا للزرقانی وانما یکون الوصف بالنبوۃ بعد بلوغ الموصوف بہا اربعین سنۃ اذھو سن الکمال ولھا تبعث الرسل ومفاد ھٰذا الحصر الشامل لجمیع الانبیاء حتّٰی یحيٰ وعیسٰی ھو الصحیح ففی زاد المعاد للحافظ ابن القیم ما یذکر ان عیسٰی رفع وھو ابن ثلٰث وثلٰثین سنۃ لا یعرف بہ اثر متصل یجب المصیر الیہ قال الشّامی وھو کما قال فان ذٰلک انمایروی عن النصاریٰ و المصرح بہٖ فی الاحادیث النبویّۃ انہ انما رفع وھو ابن ماءۃ وعشرین سنۃ ثم قال الزّرقانی وقع للحافظ الجلال السیوطی فی تکملۃ تفسیر المحلّٰی وشرح النقایۃ وغیرھما من کتبہ الجزم بان عیسٰی رفع وھو ابن ثلٰث و ثلٰثین سنۃ و یمکث