یہ قوؔ ل ابو مالک کا کیوں نقل فرمایا ہے قال ابو مالک فی قولہ ۱؂ قال ذٰلک عند نزول عیسٰی بن مریم علیہ السلام لا یبقٰی احد من اھل الکتٰب الا اٰمن بہ اور پھر اس پر علاوہ یہ ایک لطیفہ اَور ہے کہ قول حسن کا بھی واسطے استدلال اپنے مدعا کے نقل فرمایا ہے وقال الحسن البصری یعنی النجاشی و اصحابہ ۔ بھلا کہاں نجاشی اور کہاں اس کے اصحاب اور کہاں نزول عیسیٰ بن مریم اورکجا وہ اہل کتاب جو عند نزول عیسےٰ بن مریم ایمان لاوینگے۔ ؂ بہ بیں تفاوت رہ از کجاست تابکجا۔ اور پھر یہ قول بھی نقل فرمایا گیا ہے۔ وقال الضحاک عن ابن عباس وان من اھل الکتٰب لیؤمنن بہٖ قبل موتہٖ۔یعنی الیھود خاصۃ۔ یہ کیسا تناقض اور اختلاف ہے۔ صدق اللہ تعالیٰ ۲؂ اور پھر باب اعتقادیات میں بطور امکان کے یہ فرما نا آپ کا ( پس ہو سکتا ہے کہ جن کفار کا علم الٰہی میں مسیح ؑ کے دم سے کفر کی حالت میں مرنا مقدر ہو انکے مرنے کے بعد سب اہلِ کتاب ایمان لے آویں) کیسا اپنے محل اور موقع پر ہے باب عقائد میں ایسے ہی ادلّہ قطعیۃ الدلالت ہونے چاہئیں۔ اورپھر جبکہ ایمان سے مراد ایمان شرعی نہ ہؤا بلکہ مراد اُس سے یقین ہوا تو کہاں گیا وُہ مدعی کہ بعد نزول اور قبل موت عیسےٰ بن مریم کے ایک زمانہ ایسا آویگا کہ سب اہل کتاب اسلام میں داخل ہو جاوینگے۔ مولانا ۳؂ قولہ اعتراض سوم کا جواب بھی انہیں وجہوں سے ہے الخ۔اقول ان دونوں وجہوں کا غیر موجود ہونا معلوم ہو چکا کوئی اور وجہ نون خفیفہ وغیرہ کی بیان فرمائی جاوے قولہ یہ اعتراض جناب مرزا صاحب کی شان سے نہایت مستبعد ہے۔ الٰی آخر العبارۃ۔ اقول مولانا وہ کونسا زمانہ ہو چکا ہے جسمیں کوئی کافر نہ تھا۔ اگر فرماؤ حضرت آدم کے اوائل وقت میں تو گذارش یہ ہے کہ حضرت ابلیس علیہ اللعن سب سے بڑے کافر موجود تھے ۔ اور بعد ہونے اولاد کے قابیلؔ و ہابیلؔ کا قصّہ خود قرآن مجید میں موجودہے اور اگر کہو کہ قبل حضرت آدم کے۔ تو گذارش یہ ہے کہ اس زمانہ سے بحث ہی کب ہے اور اگر خواہ مخواہ آپ اس زمانہ کو ہی مصداق اس کا قرار دیویں اورفرماویں کُل ملائکہ مومنین ہی تھے۔ تو ہم کہیں گے کہ جنّات کفار بھی موجود تھے پھر وہ کونسا زمانہ تھا جس میں کوئی کافر موجود نہ تھا ۔ قال اللّٰہ تعالٰی حکایتًا