جاتیؔ ہیں اور ممکن ہے کہ ایک حدیث باوجود صحیح ہونے کے پھر بھی واقعی اور حقیقی طور پر صحیح نہ ہو غرض علم حدیث ایک ظنّی علم ہے جو مفید ظن ہے۔ اگر کوئی اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ اگر احادیث صرف مرتبہ ظن تک محدود ہیں تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ صوم و صلوٰۃ و حج و زکوٰۃ وغیرہ اعمال جو محض حدیثوں کے ذریعہ سے مفصل طور پر دریافت کئے گئے ہیں وہ سب ظنی ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بڑے دھوکے کی بات ہے کہ ایسا سمجھا جائے کہ یہ تمام اعمال محض روایتی طور پر دریافت کئے گئے ہیں و بس۔ بلکہ ان کے یقینی ہونے کا یہ موجب ہے کہ سلسلہ تعامل ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اگر فرض کر لیں کہ یہ فن حدیث دنیا میں پیدا نہ ہوتا پھر بھی یہ سب اعمال و فرائض دین سلسلہ تعامل کے ذریعہ سے یقینی طور پر معلوم ہوتے۔خیال کرنا چاہئے کہ جس زمانہ تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں کیا اس وقت لوگ حج نہیں کرتے تھے؟ یا نماز نہیں پڑھتے تھے؟ یا زکوٰۃ نہیں دیتے تھے؟ ہاں اگر یہ صورت پیش آتی کہ لوگ ان تمام احکام و اعمال کو یک دفعہ چھوڑ بیٹھتے اور صرف روایتوں کے ذریعہ سے وہ باتیں جمع کی جاتیں تو بے شک یہ درجہ یقینی و ثبوت تام جو اب ان میں پایا جاتا ہے ہرگز نہ ہوتا سو یہ ایک دھوکہ ہے کہ ایسا خیال کر لیا جائے کہ احادیث کے ذریعہ سے صوم و صلوٰۃ وغیرہ کی تفاصیل معلوم ہوئی ہیں بلکہ وہ سلسلہ تعامل کے ذریعہ سے معلوم ہوتی چلی آئی ہیں اور درحقیقت اس سلسلہ کو فن حدیث سے کچھ تعلق نہیں وہ تو طبعی طور پر ہر ایک مذہب کو لازم ہوتا ہے۔ اور میرا مذہب احادیث بخاری اور مسلم کی نسبت یہ نہیں ہے کہ میں خواہ نخواہ ان کی کسی حدیث کو موضوع قرار دوں۔ بلکہ میں ہر ایک حدیث کو قرآن کریم ؔ پر پیش کرنا ضرور سمجھتا ہوں۔ اگر قرآن کریم کی کوئی آیت صاف اور کھلے کھلے طور پر ان کی مخالف نہ ہو تو میں بسر و چشم اس کو قبول کروں گا۔ بلکہ اگر مخالف بھی ہو تو کوشش کروں گا کہ وہ مخالفت اٹھ جائے لیکن اگر کسی طور سے مخالفت دور نہ ہوسکے تو پھر البتہ میں کہوں گا کہ اس حدیث کے بیان کرنے میں تغیّر الفاظ یا پیرایہ بیان میں کچھ فرق آگیا ہوگا یا جو کچھ کسی صحابی نے بیان فرمایا ہوگا اس کے تمام الفاظ تابعی وغیرہ کے حافظہ میں محفوظ نہیں رہے ہوں گے۔ مگر اب تک تو مجھے ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ بخاری یا مسلم کی کوئی حدیث صریح مخالف قرآن مجھ کو ملی ہو جس کی میں کسی وجہ سے تطبیق نہ کرسکا بلکہ جو کچھ بعض احادیث میں کچھ تعارض پایا جاتا ہے خدا تعالیٰ اس تعارض کے دور کرنے کیلئے بھی میری مدد کرتا ہے۔ ہاں میں دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں تعارض کو دور کرسکتا ہوں کیونکہ جو حقیقی اور واقعی تعارض ہوگا اس کو میں کیونکر دور کرسکتا ہوں یا کوئی اور شخص کیونکر دور کرسکتا ہے۔