(اگر آپ کا اعتقاد فرقہ نیچریہ ضالہ کے موافق نہیں ہے) کہ صحت احادیث کا معیار توافق قرآن کو ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کا کون امام ہے۔
(۳) اجماع کی تعریف میں جو آپ نے کہا ہے یہ کس کتاب اصول وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ تین چار صحابہ کے اجماع کو علمائے اسلام سے کون شخص قرار دیتا ہے۔
(۴) شرح السّنّة سے جو حدیث آپ نے نقل کی ہے اس میں آنحضرت صلعم کا کوئی قول منقول نہیں ہے بلکہ اس میں ایک صحابی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے جو اس کے فہم میں آیا ہے اس قول صحابی کو آنحضرت کا قول قرار دینا آنحضرت پر افترا نہیں تو کیا ہے۔
(۵) اشاعة السنة میں جو میں نے محی الدین ابن عربی کا قول نقل کیا ہے کیا اس کی نسبت میں نے آخر ریویو میں بصفحہ ۵۴۳ یہ ظاہر نہیں کیا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے اس صفحہ میں کیا یہ عبارت درج نہیں ہے؟یہی جتانا اس امر سوم کے بیان سے ہمارا مقصود تھا اس سے اس امر کا اظہار مقصود نہیں ہے کہ ہم خود بھی اس الہام کو حجت و دلیل جانتے ہیں اور غیر ملہم کو کسی ملہم(غیر نبی) کے الہام پر عمل کرنا واجب سمجھتے ہیں۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔ ہم صرف کتاب اللہ و سنت کے پیرو ہیں اور اسی کو حجت ودستور العمل اور عام راہ جانتے ہیں نہ خود الہامی ہیں نہ کسی اور کشفی الہامی غیر نبی کے(متقدمین سے ہو خواہ متاخرین سے) متبع و مقلّد ہیں۔ پھر مجھ کو اس قول ابن عربی کا امکانی قائل بنانا مجھ پر افترا نہیں تو کیا ہے؟ آیات قرآن جو آپ نے نقل کی ہیں ان کو امر متنازعہ فیہ سے کچھ تعلق نہیں ہے میں اس امر کو اپنے تفصیلی جواب میں بیان کروں گا جب سوالات مذکورہ کا جواب پاﺅں گا۔ ابو سعید فقط
مرزا صاحب ! میری طرف سے مکرر گزارش یہ ہے کہ ائمہ حدیث جس طور سے صحیح اور غیرصحیح حدیثوں میں فرق کرتے ہیں اور جو قاعدہ تنقید احادیث انہوں نے بنایا ہوا ہے وہ تو ہر ایک پر ظاہر ہے کہ وہ راویوں کے حالات پر نظر ڈال کر باعتبار اُن کے صدق یاکذب اور سلامت فہم یا عدم سلامت اور باعتبار اُن کے قوت حافظہ یاعدم حافظہ وغیرہ امور کے جن کا ذکر اس جگہ موجب تطویل ہے کسی حدیث کے صحیح یاغیر صحیح ہونے کی نسبت حکم دیتے ہیں مگر ان کا کسی حدیث کی نسبت یہ کہنا کہ یہ صحیح ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ حدیث من کل الوجوہ مرتبہ ثبوت کامل تک پہنچ گئی ہے جس میں امکان غلطی کا نہیں بلکہ ان کا مطلب صحیح کہنے سے صرف اس قدر ہوتا ہے کہ وہ بخیال ان کے ان آفات اور عیوب سے مبرّا ہے جو غیر صحیح حدیثوں میں پائی