اورؔ آپ نے یہ جو مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ جو ’’تعارض ابن صیاد والی حدیث اور گرجا والے دجال والی حدیث میں پایا جاتا ہے اس تعارض کے ماننے میں کون تمہارے ساتھ ہے۔‘‘ اس سوال سے میں متعجب ہوں کہ جس حالت میں مدلل اور موجّہ طور پر میں تعارض کو ثابت کرچکا ہوں۔ تو پھر میرے لئے ضرورت کیا ہے کہ میں اپنے لئے اس بصیرت خداداد میں کسی کی سلف میں سے تقلید ضروری سمجھوں اور آپ بھی تو ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۱۰ میں اس بات کو قبول کرچکے ہیں کہ بلاتقلید غیرے استدلال منع نہیں۔ چنانچہ آپ اس صفحہ میں فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے معاصرین جو باوجود ترک تقلید تقلید کے خوگر ہیں بلاواسطہ سابقین کسی آیت یا حدیث سے تمسک نہیں کرتے اور جو بلاواسطہ سابقین کسی آیت یا حدیث سے استدلال کریں اس کو تعجب کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔‘‘
اور آپ کا یہ فرمانا کہ ’’میرے کس لفظ سے یہ سمجھ لیا ہے کہ میں احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کے مرتبۂ صحت سے برابر سمجھتا ہوں۔‘‘ یہ مجھے آپ کے فحوائے کلام سے خیال گزرا تھا اگر آپ کا یہ منشاء نہیں ہے اور آپ میری طرح احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کریم کے مرتبہ صحت سے متنزل سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کو امام قرار دیتے ہیں اور محک صحت احادیث ٹھہراتے ہیں تو پھر میری غلطی ہے کہ میں نے ایسا خیال کیا۔ لیکن اگر آپ درحقیقت قرآن کریم کا اعلیٰ مرتبہ مانتے ہیں اور اس کو واقعی طور محک صحت احادیث قرار دیتے ہیں اور اس کی مخالفت کی حالت ؔ میں کسی حدیث کو قبول نہیں کرتے تو پھر تو آپ مجھ سے متفق الرائے ہیں۔ پھر اس لمبے چوڑے تکرار سے فائدہ کیا ہے!
اور یہ جو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد سے کیا مطلب ہے۔ تو میں عرض کرتا ہوں کہ اس جگہ اجتہاد سے مراد اس عاجز کی اجتہاد فی الوحی ہے کیونکہ یہ تو ثابت ہے اور آپ کو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلعم وحی مجمل میں اجتہادی طور پر دخل دے دیا کرتے تھے اور بسااوقات وہ تفسیر اور تشریح جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صحیح اور سچی ہوتی تھی اور بعض اوقات غلطی بھی ہوجاتی تھی چنانچہ اس کی نظیریں بخاری اور مسلم میں بہت ہیں اور حدیث فذھب وھلیبھی اس کی شاہد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ سے مکہ معظمہ کی طرف بعزم طواف کعبہ سفر کرنا یہ بھی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ پھر آپ مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ