بلکہؔ تحریض سمجھی ہے۔ جو بیضاوی وغیرہ میں لکھی ہے اُسی تفسیر کے موافق معنے آیت کے صاحب القول الجمیل نے لکھے ہیں ۔ پس یہ اعتراض جناب کا صاحب القول الجمیل سلمہ پر اپنے موقع پر نہیں ہے۔ اور یہ بات تو ثابت ہوچکی کہ خالص استقبال کا مراد ہونا اس مقام پر کچھ ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ زمانہ حال کا مراد ہونا بھی یہاں پر ضروری ہے۔ قولہ اُن میں سے ہیں ابوہریرہ الٰی قولہ۔ و ھٰذا القول ھو الحق کما سنبینہ بعد بالدلیل القاطع انشاء اللّٰہ تعالٰی۔ اقول اِس قول میں جسقدر تابعین وغیرہ کا اس طرف جانا مولوی صاحب نے ذکر فرمایا کوئی قول انکا ایسا نقل نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ جس طرح مولوی صاحب اس آیہ کو قطعی الدلالت فرماتے ہیں اسی طرح یہ جماعت بھی اس آیہ کو قطعی الدلالت کہتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو خود بطور شک کے جس پر حرف اِنْ دلالت کرتا ہے یہ فہم اپنا مشکوک قرار دیتے ہیں پھر اور کسی تابعی وغیرہ کا ذکر ہی کیا ہے۔ پس تقریب مولوی صاحب کی محض ناتمام ہے۔ اور مستلزم مدعا کو نہیں اور پھر اس پر مولوی صاحب کا یہ فرمانا کہ ایک جماعت کثیر سلف میں سے اسی طرف گئی ہے کیسا اپنے محل اور موقعہ پر ہے ناظرین ذرا ملاحظہ فرماویں۔ اور صاحب تفسیر ابن کثیر جو فرماتے ہیں۔ کہ و ھٰذا القول ھو الحقّ الخ ۔ تو اُن سے مطالبہ دلیل قاطع کا ہے۔ وہ دلیل قاطع بیان فرمائی جائے۔ نون ثقیلہ کی دلیل تو بہت ہی خفیفہ ہوگئی۔ قولہ اول یہ کہ آیت میں نون تاکید ثقیلہ موجود ہے الٰی قولہ غیر متصور ہے۔ اقول مقدمہ نون ثقیلہ کا بسبب لام تاکید مفتوحہ کے بالکل خفیفہ ہوگیا اور ایسی تعمیم کہ (جو اہل کتاب قبل چڑھائی جانے مسیح کے صلیب پر دُنیا میں موجود تھے۔ آیت لیؤمننّ بہ انکو بھی شامل ہو) کچھ ضروری نہیں۔ سباق آیہ میں اہل کتاب موجودین قبل واقع صلیب کے کب مراد ہیں جو یہانپر بھی وہ مراد ہوں۔ دیکھو سب جملوں ماسبق آیت کو وَ ۱؂ ۲؍۶ و غیر ذٰلک من الجمل۔ قولہ اور ایسا ہی آپ کے دوسرے معنے بھی باطل ہوئے جاتے ہیں الخ۔ اقولجبکہ مقدمہ نون ثقیلہ کا بسبب موجود ہونے لام تاکید مفتوحہ کے بالکل خفیفہ ہوگیا تو اب یہ معنے کیونکر باطل ہوسکتے ہیں اور اگر اَور وجوہ اُسکے ابطال کی آپ کے نزدیک موجود ہوں بیان فرمائی جاویں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان میں نظر کی جاوے گی۔ قولہ جواب اعتراض دوم بدووجہ ہے اول یہ کہ الٰی قولہ بلکہ یقین مراد ہے۔ اقول جبکہ آیت میں کہیں تصریح اس امر کی نہیں تھی کہ مسیح کے آتے ہی سب اہل کتاب مسیح پر ایمان لے آویں گے تو جناب نے واسطے اثبات اپنے دعوے کے