وجہؔ لان یراد بہ فریق من اھل الکتٰب یوجدون حین نزول عیسٰی علیہ السلام۔وقال الزجاج ھٰذا القول بعید بعموم قولہ تعالٰی ۱؂ والذین یبقون یومئذ یعنی عند نزولہ شرذمۃ قلیلۃ منھم ۔کذا فی فتح البیان۔ اور اس ہیچمدان کے بیان سے بحوالہ مطول و ہوامش وغیرہ اُسکے کے دوام تجددی اور حال و استقبال کا مراد ہونا بحسب مقامات مناسبہ ثابت ہوچکا ۔ پس اب مولوی صاحب کو لازم ہے کہ بہ تقاضائے اتقا و خشیۃ الٰہیہ کے حسب اقرار خود اس اپنے مقدمہ کو غیر صحیح تسلیم فرماویں قال اور حاصل ترجمہ یہ ہے۔ اقول حضرت اقدس مرزا صاحب آیات بینات سے یہ امر بخوبی ثابت فرماچکے کہ ایسا زمانہ قیامت تک کبھی نہیں آسکتا کہ بسیط الارض پر کوئی فرقہ کفرہ فجرہ کا باقی نہ رہے۔ ہاں البتہ غلبہ اور ظہور اہل اسلام کا کبھی جسمانی طور پر اور کبھی رُوحانی طور پر اور کبھی براہین احمدیہ کے رُو سے بالضرور ہو گا ۔خو د آیت ۲؂ ۱۱؍۱۰ جو مفسرین نے زمانہ مسیح بن مریم کے واسطے لکھی ہے یہی مضمون بآواز بلند ند ا کررہی ہے اور جمیع ما فی الارض کی ہدایت تو مشیت الٰہیہ کے محض خلاف ہے۔ قال اللّٰہ تعالیٰ ۳؂ ۱۵؍۲۱ ایضا قال تعالیٰ ۴؂۱۰؍۱۲ و غیر ذٰلک من الاٰیات الکثیرۃ المصرحۃ بذالک۔ قولہ تو اس معنے کے غلط ہونے کی یہ وجہ ہے کہ صاحب القول الجمیل سلمہ اس مقام پر غلط فاحش کا مصدر ہؤا ہے الی قولہ اسلئے یہ معنے غلط ہے ۔ اقول مولانا صرف صاحب قول الجمیل سلمہ نے ہی اس جملہ کو جملہ انشائیہ نہیں قرار دیا بلکہ جملہ نحو یین ایسے جملہ کو جو مصدر بقسم ہو خواہ وہ قسم مقدر ہو یا ملفوظ جملہ انشائیہ کہتے ہیں۔ اور حصر جملہ انشائیہ کا صرف صیغہ امر میں یہ جناب والا کا ہی ایجاد ہے۔ جملہ انشائیہ کی اقسام تو سوا امر کے اور بہت ہیں جو ہر ایک کتاب صغیر و کبیر نحو میں مذکور ہیں۔اس مسئلہ کو نحو میر خوان اطفال بھی جانتے ہیں۔ صاحب القول الجمیل سلّمہ نے لیؤمننّ کو ہرگز ہرگز صیغہ امر کا نہیں سمجھا