لاختھا فی الشدۃ و قیل المعنی لترکبن ایھا الانسان حالاً بعد حال من کونک نطفۃ ثم علقۃ ثم مضغۃ ثم حیًّا و میتًا و غنیًا و فقیرًا۔ قال مقاتل طبقا عن طبق یعنی الموت و الحیٰوۃ و قال عکرمۃ رضیع ثم فطیم ثم غلام ثم شاب ثم شیخ و عن ابن مسعود قال یعنی السّماء تنفطر ثم تنشق ثم تحمر و قیل یعنی الشدائد واھوال الموت ثم البعث ثم العرض و قیل لترکبن سنن من کان قبلکم کما ورد فی الحدیث الصحیح انتہی حاصلہ و ملخصہ۔ بالآخر اب ناظرین کی خدمت میں ایک گذارش ضروری یہ ہے کہ جناب مولوی صاحب نے پرچہ نمبر دوم میں فرمایا ہے۔ ’’ کہ بیضاوی میں لکھا ہے کتب اللّٰہ لاغلبن انا و رسلی بالحجۃ ‘‘ ظاہر ہے کہ لوح محفوظ میں جب لکھا تھا اسوقت اور اس سے پہلے غلبہ متصور نہ تھا کیونکہ غلبہ کے لیے غالب مغلوب ضروری ہیں اُسوقت نہ رسل تھے نہ اُنکی امت تھی یہ سب بعد اس کے ہوئے ہیں‘‘ انتہٰی ۔ یہ ہیچمدان مولوی صاحب کے قول کی اور تائید کرتا ہے کہ جناب نے بیضاوی کا حوالہ جسکی تفسیر کو آیت لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ میں آپ محض باطل اور غلط فرما چکے ہیں ناحق تحریر فرمایا۔ خود قرآن شریف میں موجود ہے ۱؂ ظاہر ہے کہ کتابت لوح محفوظ کی سب سے سابق ہے زمانہ ماضی و حال و استقبال جملہ ازمنہ ثلاثہ کتابت لوح محفوظ سے زمانہ استقبال میں واقع ہیں فیصلہ شد۔ مولوی صاحب نے تمام نزاع استمرار و ماضی و حال حضرت اقدس مرزا صاحب کا ختم کردیا ۔ و للّٰہ الحمد ۔ ؂ ہوئی ماضی و یا کہ حال ہوا چلو جھگڑا ہی انفصال ہوا چونکہ مولوی صاحب کا اقرار پرچہ ثانی میں بدیں خلاصہ مضمون مندرج ہوچکا ہے کہ اصل اور عمدہ بحث کل ابحاث مندرجہ پرچہ ہائے ثلاثہ کی بحث نون تاکید کی ہے پس جبکہ نون تاکید کا نزاع ہی سب ختم ہوچکا۔ لہٰذا کل پرچہ ہائے ثلاثہ کا جواب بھی ختم ہوگیا۔ مگر بفرمائش بعض احباب بطور قال و اقول کے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ قالاگر جناب مرزاصاحب الی قولہ تو میں اپنے اس مقدمہ کو غیر صحیح تسلیم کرلونگا ۔ اقول حضرت اقدس مرزا صاحب تفاسیر معتبرہ اور آیات بینات سے یہ بات ثابت فرماچکے کہ فان حقیقۃ الکلام للحال و لا