بہتؔ پہلے دونوں مرتبہ فساد بھی اسرائیل کے زمانہ ماضی میں ہوچکے ہیں۔ اول فساد کی سزا میں جالوت غالب ہؤا اور دوسرے فساد کی جزا میں بخت نصر غالب ہوچکا۔ آیت ۱ ؂ میں دونوں زمانہ حال و استقبال مراد ہیں اور کوئی محذور نہیں بلکہ یہاں پر مضارع ہونا ضروری ہے بلکہ دوام تجدد ہی کا مراد ہونا انسب ہے۔ کیونکہ جوشخص جس وقت سے ارادہ نصرت الٰہی کرتا ہے اُسی وقت سے نصرت الٰہی شامل حال اسکے ہونے لگتی ہے اگرچہ دوسروں کو محسوس نہ ہو۔ آیت:- ۲؂ میں دونوں زمانہ حال و استقبال مراد ہوسکتے ہیں کیونکہ لفظ استخلاف کا عام ہے شامل ہے استخلاف رُوحانی اور جسمانی دونوں کو ۔پھر رُوحانی استخلاف تو وقت بعثت سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ سلمنا کہ استخلاف جسمانی و ظاہری ہی مراد ہے تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم خلیفۃ اللہ نہیں تھے۔ بلکہ ان سب وعدوں مندرجہ آیت کا ایفا تو حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت سے شروع ہوگیا تھا۔ پھر اگر آیت مذکورہ میں زمانہ حال بھی مراد ہو تو کونسا محذور نحوی لازم آتا ہے۔ خصوصاً اُس حالت میں کہ مطول وغیرہ سے تصریح ہوچکی کہ زمانہ حال کا ایک امر عرفی ہے اور اس کی مقادیر مختلف ہیں جو مفوض ہیں اہلِ عرف پر۔ آیت ۳؂ دونوں زمانہ حال و استقبال مراد ہوسکتے ہیں مقدار زمان الحال مفوض الی العرف۔ اسی واسطے شاہ ولی اللہ صاحب نے ترجمہ اس آیت کا ساتھ لفظ مضارع کے کیا ہے۔ ہر آئینہ عقوبت کنم اور اعقوبتِ سخت۔ اور اگر خالص استقبال ہی مراد ہو تو حضرت اقدس مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں ہے۔ وہ کب قائل ہیں کہ ایسے صِیَغ میں زمانہ حال التزاماً مراد ہوتا ہے۔ آیت ۴؂ میں حال و استقبال بلکہ دوام تجددی اور استمرار مراد ہے اسمیں کونسا محذور نحوی لازم آتا ہے۔ خود ۵؂ اس کی دلیل ہے جو متضمن شرط کو ہے اگر یہ شرط زمانہ ماضی میں واقع ہوچکی تو جزا اُسکی بھی زمانہ ماضی میں واقع ہوچکی اور اگر یہ شرط زمانہ حال میں متحقق ہو تو جزا اس کی زمانہ حال میں متحقق ہوتی ہے اور اگر شرط زمانہ استقبال میں واقع ہو گی تو جزا اس کی بالضرور زمانہ استقبال میں متحقق ہوگی۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت بمنزلہ قضیہ شرطیہ فیصلہ لزومیہ کے ہے۔ مولوی صاحب اس بارہ میں جب کچھ مباحثہ منطقیہ بیان فرماوینگے تو ہیچمدان بھی انشاء اللہ تعالیٰ کلام کو بسط کردیگا۔ آیت ۶؂ میں دونوں