زماؔ نہ حال و استقبال مراد الٰہی ہیں زمانہ استقبال کی کوئی تخصیص ضروری نہیں ہے اسی واسطے ترجمہ اسکا مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے بلفظ مضارع کیا ہے۔ و البتہ بشناسی ایشاں را دراسلوب سخن۔ آیت ۱ ا گر صرف زمانہ استقبال ہی مراد مان لیا جائے تو حضرت اقدس مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں زمانہ حال کا ارادہ اُنکے نزدیک لازم اور واجب نہیں اور اس آیہ میں جو خالص زمانہ استقبال مراد ہوا تو اس کا سبب یہ ہے کہ سیاق آیت میں قرائن صارفہ عن ارادۃ الحال موجود ہیں کیونکہ یہ آیت جو اب ہے زعم کفارکا کہ بعث ہرگز نہ ہوگا لہٰذا جواب میں بھی صرف استقبال مراد ہوا۔ قال اللہ تعالیٰ۔ ۲ ۱۵؍۲۸ ظا ہر ہے کہ لن مضارع کو خالص استقبال کے واسطے کردیتا ہے پس جبکہ زعم کفار صرف نفی بعث استقبال کے واسطے تھا تو جواب اور اُن کی رد میں بھی صرف استقبال ہی مراد لیا گیا۔ پس یہاں پر ایک قرینہ صارفہ عن ارادۃ زمان الحال موجود ہے۔ اور اگر آغاز بعث کا وقت موت سے لیا جاوے اور انتہا اس کا یوم النشور اور حشر اجساد تک ہو بلحاظ حدیث صحیح کے کہ من مات فقد قامت قیامتہ وارد ہے تو زمانہ حال بھی مراد ہو سکتا ہے۔ آیت ۳ میں لام تاکید جو حال کے واسطے آتا ہے معہ نون تاکید ثقیلہ کے موجود حال و استقبال دونوں زمانہ مراد ہیں۔ نہیں معلوم مولوی صاحب نے اکثر آیات گزشتہ جن میں بحسب مقامات کہیں حال و استقبال دونوں مراد ہیں اور کہیں دوام تجددی مراد ہے۔ خصوصاً آیت ھٰذا کو خالص استقبال کے واسطے کیوں قرار دیا ہے۔ آیت ھٰذا کی تفسیرملخصاً فتح البیان سے لکھی جاتی ہے تاکہ ناظرین کو ثابت ہو کہ خالص استقبال کا التزاماًمراد ہونا اس آیہ میں محض غلط اور باطل ہے اور مخالف ہے تفسیر حضرت تتمہ محدثین حضرت نواب صاحب بہادر مغفور و مرحوم کے ۔حضرت مرحوم نے تفسیر آیت مذکورہ میں جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے۔ حالًا بعد حالٍ قالی الشعبی و مجاھد لترکبنّ یا محمدؐ سماءً بعد سماءٍ قال الکلبی یعنی تصعد فیھا و ھذا علی القراء ۃ الاولی و قیل درجۃ بعد درجۃ و رتبۃ بعد رتبۃ فی القرب من اللّٰہ و رفعۃ المنزلۃ و قیل المعنی لترکبن حالا بعد حال کل حالۃ منھا مطابقۃ