کہؔ جسکے سبب سے زمانہ حال مراد نہیں ہوسکتا کہ وہ لفظ یوم القیامۃ کا ہے مگر مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے ترجمہ اسکا بلفظ مضارع کیا ہے۔ و البتہ بیاں کند برائے شما روز قیامت آنچہ دراں اختلاف مے نمودید۔ شاید حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے ترجمہ بلفظ مضارع اسواسطے کیا ہے کہ من مات فقد قامت قیامتہٗ، حدیث صحیح ہے پس یہ بیان بطور استمرار کے ہمیشہ جاری ہے قیامت تک یعنی حشر اجساد تک۔ آیت ۱؂ میں دونوں زمانے حال و استقبال مراد ہوسکتے ہیں۔ کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ شاہ عبد القادر صاحب نے ترجمہ آیت کا برعایت زمانہ حال کیا ہے۔ یعنے اور تم سے پُوچھ ہونی ہے جو کام تم کرتے تھے۔ یہاں تک جس قدر آیتیں مولوی صاحب نے لکھیں وہ سب مناقض اور منافی دعوٰے مولوی صاحب کے ہیں اور مؤید حضرت اقدس مرزا صاحب کے ولنعم ما قیل ؂ عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد خمیر مایۂ دوکان شیشہ گرسنگ است اس مقام پر ہیچمدان کو وہ مثل یاد آئی جسکو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی آیت کے رکوع میں بیان فرمایا ہے قال اللہ تعالیٰ ۔ ۲؂ ۱۹؍۱۴آیت ۳؂ میں حال و استقبال بلکہ استمرار مراد ہے کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ اور شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی ترجمہ اسکا بلفظ مضارع کیا ہے۔ ہر آئینہ زندہ کنیمش بزندگانئ پاک و بدہیم آنجماعہ را مزد ایشاں۔ اور شاہ عبد القادر صاحب فائدہ میں لکھتے ہیں اچھی زندگی قیامت کو جِلا دینگے یا دنیا میں اللہ کی محبت اور لذت میں۔ آیت ۴؂ ۱؍۱۵میں اگر زمانہ استقبال ہی مراد ہے تو حضرت مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں کیونکہ حضرت اقدس اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ کسی جگہ ان صِیَغ میں خالص زمانہ استقبال مراد نہیں ہوسکتا بلکہ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ بحسب مقامات ایسے صیغ میں کہیں تو دوام تجددی مراد ہوتا ہے جیسا کہ حواشی مطول سے صیغہ مستقبل کا ہونا دوام تجددی کے واسطے نقل ہوچکا اور کہیں حال و استقبال مراد ہوتا ہے اور کہیں خالص استقبال چونکہ یہاں پر سیاق آیہ میں چند قرائن صارفہ عن ارادۃ الحال موجود ہیں اسواسطے حال مراد نہیں خالص استقبال مراد ہے۔ لیکن مولوی صاحب کا استقبال تو یہاں پر بھی موجود نہیں کیونکہ نزول آیت سے