اورؔ جمع ہوتے جاتے ہیں اور یہ جمع قیامت تک رہے گا۔ قیامت اُسکی انتہا ہے کیونکہ الٰی انتہا کے واسطے آتا ہے آیت ۱ میں صیغہ فلنسئلن مضارع ہوسکتا ہے کیونکہ لام تاکید معہ نون تاکید کے اُس میں موجود ہے اور دوام تجددی بھی مراد ہوسکتا ہے۔ شروع سوال وقت موت سے ہی برزخ میں بھی ہوتا ہے اور حشر و نشر اجساد میں بھی رہے گا تا دخول جنت یا نار۔ شاہ عبدالقادر صاحب ترجمہ اسکا زمانہ حال کے ساتھ فرماتے ہیں سو ہم کو پُوچھنا ہے اُن سے جن پاس رسول بھیجے تھے اور ہم کو پُوچھنا ہے رسُولوں سے۔ آیت ۲ میں حال و استقبال دونوں مراد ہوسکتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے ترجمہ بلفظ مضارع کیا ہے۔ البتہ ببرم دستہائے شمارا و پاہائے شمارا۔ آیت ۳ میں بھی دونوں زمانے مراد ہوسکتے ہیں اور کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ کیونکہ وقت نزول آیہ سے یعنی حضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے وقت سے یہود پر عذاب نازل ہونا شروع ہوگیا اور یہ عذاب اُن پر قیامت تک نازل رہے گا۔ اسی واسطے ترجمہ اس آیہ کا حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے بلفظ مضارع کیا ہے ویاد کُن چُوں آگاہ گردانید پروردگار تو کہ البتہ بفرستد برایشاں تاروز قیامت۔ آیت ۴ میں حال و استقبال دونوں مراد ہیں کیونکہ اسکے کیا معنے کہ کفار پیغمبروں کو اذیت تو دے چکے یا دیتے ہیں۔ اور اُن پیغمبروں نے ابھی تک صبر نہیں کیا کسی آئندہ زمانہ میں صبر کرینگے اور زمانہ حال میں بے صبر ہیں ۵ آیت ۶ الایہ میں بھی حال و استقبال دونوں مراد ہوسکتے ہیں۔ کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ خصوصا جبکہ لحاظ کی جاوے تعریف زمانہ حال کی جو اوپر گذر چکی کہ زمانہ حال ایک امر عرفی ہے اور اُسکی مقدار بلحاظ افعال کے مختلف ہے اور وہ مفوض الی العرف ہے۔ آیت ۷ میں تسلیم کیا کہ صرف زمانہ استقبال مراد ہے مگر ہم کو یہ کچھ مضر نہیں ۔ہم یہ کب کہتے ہیں کہ ایسے صِیَغ میں زمانہ حال ضرور بالضرور مراد ہی ہوتا ہے اور آیت مذکورہ میں ایک صارف بھی موجود ہے۔