نحوی لازم نہیں آتا۔ البتہ آیت اول میں چونکہ صرف نون تاکید ہے لام تاکید نہیں لہٰذا وہ صرف استقبال کے واسطے ہے۔ اور آیت دوم ۱؂ ۱؍۲ میں لام تاکید معہ نون تاکید موجود ہے۔ پس اسکے حال و استقبال ہونے میں کوئی محذور نہیں ہے علیٰ ھٰذا القیاس۔ آیت سوم ۲؂ ۳؍۲ میں حال و استقبال دونوں مراد ہوسکتے ہیں۔ اور اگر کسی تفسیر میں ان آیات کو صرف استقبال پر حمل کیا ہو تو ہم کو کچھ مضر نہیں۔ اور آیت چہارم ۳؂ ۱۷؍۲میں حال و استقبال دنوں مراد ہو سکتے ہیں اور ہم یہ کب کہتے ہیں کہ ہر جگہ حال ہی مراد ہوا کرے اور لَتَنْصُرُنَّہٗ میں صرف استقبال ہی مراد ہونا ہم کو کچھ مضر نہیں۔ آیت پنچم ۴؂ ۱۰؍۴میں لام تاکید معہ نون تاکید موجود ہے حال و استقبال دونوں مراد ہوسکتے ہیں اور اگر کسی تفسیر میں صرف استقبال کا مراد ہونا ان آیات میں لکھا ہوتو ہمکو کچھ مضر نہیں۔ اور آیت نمبر ۴ ۵؂ اگر خبر بمعنے انشاء کے ہے اور اس واسطے صرف استقبال مراد ہے تو ہم کوکچھ مضر نہیں۔ آیت ششم ۶؂ میں دونوں زمانہ مراد ہوسکتے ہیں کوئی محذور لازم نہیں آتا آیت ہفتم ۷؂ میں لام تاکید مع نون تاکید موجود ہے۔ حال و استقبال دونوں مراد ہیں۔ ورنہ اس کے کیا معنے کہ وہ مہاجرین اللہ تعالیٰ کے راہ میں قتل تو کئے گئے اور اُس کی راہ میں تکلیفیں اُٹھا چکے اور ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے اور ہزاروں برس کے بعد کہیں جنت میں داخل ہونگے بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ نزول آیت کے وقت میں بھی داخل ہوئے اور ہونگے اور داخل ہوتے چلے جاتے ہیں یاد کرو القبر روضۃ من ریاض الجنّۃالخ۔ آیت ہشتم ۸؂ کے بھی مضارع ہونے میں کوئی محذور نہیں۔ ابلیس کا اضلال حضرت آدم کے وقت دخول جنت سے متحقق ہے۔ آیت نہم ۹؂ میں بھی دونوں زمانے مراد ہوسکتے ہیں۔ کونسا محذور لازم آتا ہے بیان کیا جاوے اس میں نظر کی جاوے گی۔ آیت دہم۔ ۱۰؂ میں بھی خالص استقبال کا بطور وجوب و لزوم کے مراد ہونا کچھ ضرور نہیں و من ادعی فعلیہ البیان۔ آیت یاز دہم۔ ۱۱؂ میں بھی دونوں زمانہ مراد ہوسکتے ہیں کیونکہ مرتے جاتے ہیں۔