قدؔ اومأَ فی معناہ مثل ربما و قد یقدر قد و یکتفی بالام باللفظ ولا یکتفی بقد الا اذا طال القسم او کان فی ضرورۃ الشعر نحو قولہ تعالی ۱ و ان کان مضارعا استقبالیا یلزمھا اللام مع نون التاکید و ان دخلت اللام علی نفس المضارع الا نادرا ولا یکتفی عن الام بالنون الا فی ضرورۃ الشعر واذا لم یدخل الام علی نفس المضارع یکتفی بالام نحن لان متم او قتلتم لا الی اللہ تحشرون و ان کان مضارعا حالیا یکون بالام من غیر النون و اما جملۃ فعلیۃ منفیۃ فیلزمھا فی الماضی ما اولا و یلزم تکرار لاھٰھنا لان الماضی ینقلب فی الجواب مع لامستقبلا و فی المضارع استقبالیا کان او حالیا ما اولا مع النون او بدونھا۔ الخ۔اب اگر قسم کے جواب مثبت فعلی میں مراد متکلم کے دوام تجددی ہو یا حال و استقبال دونوں مراد ہوں جو چوتھی اور پانچویں صورت ہے تو اسکے واسطے بھی وہی صیغہ مضارع کا مؤکد بلام تاکید و نون تاکید بولیں گے اگر مولوی صاحب اسکو ناجائز فرماویں تو بحوالہ ائمہ کبار نحو کے جو سابق مذکور ہوچکے اس مراد کے واسطے کوئی صیغہ استخراج فرماویں ورنہ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ایسے مافی الضمیر کے لئے کوئی صیغہ اور پتہ نشان عرب میں موجود نہ ہو۔ بینوا توجروا۔
حاصل یہ ہے کہ قسم کے جواب کے واسطے صرف استقبال کا ہونا کچھ واجب اور لازم نہیں ہے بلکہ جواب قسم کبھی ماضی ہوتا ہے کبھی حال کبھی استقبال کبھی استمرار اور دوام تجددی اور نیز سابق ازیں علم بلاغت سے ثابت ہوچکا کہ صیغہ مستقبل کا واسطے استمرار اور دوام تجددی کے مستعمل ہوتا ہے۔ پس اگر جواب قسم کا صیغہ مستقبل مؤکد بلام تاکید و نون تاکید ہووے تو اس کی امتناع دوام تجددی کے لئے ہونے میں یا حال و استقبال دونوں مراد ہونے میں کونسی دلیل نحوی قائم کی گئی ہے باوجود یکہ لام تاکید بھی جو حال کے واسطے آتا ہے اسمیں موجود ہے اگر کوئی ایسی دلیل اکابر ائمہ نحو یین سے بطور اجماع کے منقول ہوئی ہو تو بیان کی جاوے اُس میں نظر کی جاویگی۔ بلکہ جو آیات کہ جناب نے بطور شواہد کے اپنے مدعا کے واسطے لکھی ہیں۔ ان میں اکثر آیات واسطے استمرار اور دوام تجددی کیلئے اور حال و استقبال دونوں زمانوں کے واسطے ہوسکتی ہیں کوئی محذور