پھرؔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ میں نے اشاعۃ السّنّہ میں محی الدین ابن عربی کا قول نقل کیا ہے اور آخر میں مَیں نے لکھ دیا ہے کہ ہم الہام کو حجت اور دلیل نہیں جانتے‘‘۔ اس کے جواب میں بادب ملتمس ہوں کہ آپ اگر اس قول کے مخالف ہوتے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کرتے؟ غایت کار آپ کے کلام میں تناقض ہوگا کیونکہ اول صاف تسلیم کر آئے ہیں کہ الہام ملہم کیلئے حجت شرعی کے قائم مقام ہوتا ہے علاوہ اس کے آپ تو صاف طور پر مان چکے ہیں بلکہ بحو الہ حدیث بخاری بہ تصریح بیان کرچکے ہیں کہ الہام محدث کا شیطانی دخل سے منزہ کیا جاتا ہے۔ ماسوا اس کے میں اس بات کیلئے آپ کو مجبورنہیں کرتا کہ آپ الہام کو حجت سمجھ لیں مگر یہ تو آپ اپنے ریویو میں خود تسلیم کرتے ہیں کہ ملہم کیلئے وہ الہام حجت ہوجاتا ہے۔ سو میرا دعویٰ اسی قدر سے ثابت ہے۔ میں بھی آپ کو مجبور کرنا نہیں چاہتا۔ غلام احمد بقلم خود پرچہ نمبر ۴ ! مولوی صاحب ! آپ نے بایں ہمہ تطویل میرے سوال کا جواب پھر بھی صاف نہ دیا* اور آپ کے اس کلام میں وہی اضطراب و اختلاف پایا جاتا ہے جو پہلے کلام میں موجود ہے آپ شرط صحت کو جو آپ کے خیال میں ہے پیش نظر رکھ کر صاف صاف الفاظ میں دو حرفی جواب دیں کہ احادیث و کتب حدیث خصوصاً صحیح بخاری و صحیح مسلم بِلا تفصیل صحیح و واجب العمل ہیں یا بلا تفصیل غیر صحیح و ناقابل عمل یا اس میں تفصیل ہے بعض احادیث صحیح ہیں اور بعض غیر صحیح و موضوع۔ اس کے ساتھ آپ یہ بھی بتادیں کہ آپ نے اپنی تصانیف میں کسی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کو غیر صحیح و موضوع کہا ہے یا نہیں؟ (۲) آپ نے جو میرے اس سوال کا کہ سلف میں آپ کا کون امام ہے جواب دیا ہے وہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں نے ابن صیاد کی نسبت وہ سوال نہیں کیا تھا بلکہ آپ کے اس اعتقاد کی نسبت سوال کیا تھا کہ صحت احادیث کا معیار قرآن ہے اور جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ موضوع ہے اب بھی آپ فرماویں۔ (اگرؔ آپ کا اعتقاد فرقہ نیچریہ ضالہ کے موافق نہیں ہے) کہ صحت احادیث کا معیار توافق قرآن کو ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کا کون امام ہے۔ (۳) اجماع کی تعریف میں جو آپ نے کہا ہے یہ کس کتاب اصول وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ تین چار صحابہ کے اجماع کو علمائے اسلام سے کون شخص قرار دیتا ہے۔ * نوٹ-: مولوی صاحب! آپ کی یہ تان کہیں ٹوٹے گی بھی! ذرا بغض و عناد کے بخار سے دماغ کو خالی فرماویں۔ آپ کو صاف معلوم ہوجائے گا کہ آپ کو صاف اور کافی جواب دیا گیا ہے۔ایڈیٹر