یقاؔ ل زید یصلّی والحال ان بعض صلٰوتہ ماض وبعضھا باق فجعلوا الصلٰوۃ الواقعۃ فی الاٰنات الکثیرۃ المتعاقبۃ واقعۃ فی الحال و تعیین مقدار الحال مفوض الی العرف بحسب الا فعال ولایتعین لہ مقدار مخصوص فانہ یقال زید یاکل ویمشی ویحج ویکتب القرآن ویعدکل ذٰلک حالا ولا شک فی اختلاف مقادیر ازمنتھا۔اور السید السند ایسی ہی تدقیقات کی نسبت حواشی مطول میں تحریر فرماتے ہیں۔والحق انھا مناقشات واھیۃ لان ھذہ التعریفات بیّنات یفھم اھل اللّغۃ منہا ومن تلک العبارات ماھو المقصود بھا ولایخطر ببالھم شیء مماذکروا أما التدقیق فیھا فیستفاد من علوم اخر یلاحظ فیھا جانب المعنی دون القواعد اللفظیۃ المبنیۃ علی الظواھر انتھٰی موضع الحاجۃ ۔
بحث طرز دیگر بابت مرجع ضمیر قبل موتہٖ
اگر ضمیر قبل موتہٖ کی حضرت عیسیٰؑ کی طرف رجوع کر کر وہ معنے لئے جاویں جو مولوی صاحب لیتے ہیں تو ایک اور فساد لازم آتاہے اور وہ یہ ہے کہ بالاتفاق حضرت عیسٰی ؑ نبوت سے معزول و عاری اور حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کی امت میں شامل ہو کر آویں گے اور سب کو یہ دعوت کریں گے کہ اسلام لا کر حضرت خاتم النبییّن صلی اللہ علیہ و سلم کی امت میں داخل ہوجاؤ۔ مگر یہاں پر عکس القضیہ ہوا جاتا ہے۔ حضرت خاتم النبین پر ایمان لانے کا تو کچھ ذکر نہ ہوا اور ایک شخص امتی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا گیا۔ لیکن کسی امتی پر ایمان لانے کے کوئی عمدہ معنے قابل التفات نہیں معلوم ہوتے۔ اور اگر کہو کہ حضرت عیسٰی ؑ ٰؑ پر ایمان لانا مستلزم ہے۔ ہمارے پیغمبرصلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانے کے واسطے تو یہ گذارش ہے کہ سلمنا۔ لیکن یہ ایمان ضمن میں ایمان بعیسٰی کے بالتبع حاصل ہوا نہ بالاصل جو مقصود اصلی اللہ تعالیٰ کا ہے۔ پس مقصود اصلی کو ترک کرنا اور غیر مقصود کو اختیار کرنا جس سے طرح طرح کے توہمات ختم نبوت میں پیدا ہوتے ہیں کیا ضرورت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا تو وہ مرتبہ ہے کہ تمام انبیاء کو بہ تاکید تمام حکم ہوا ہے۔ اور ان سے اقرار و میثاق لیا گیا ہے کہ وہ سب حضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان