لاوؔ یں۔ قال اللّٰہ تعالٰی ۔ ۱؂ ۔ مولانا صاحب یہی گُر تھا کہ حضرت میاں صاحب مدّظلّہٗ اور محمد حسین نے جناب والا کو بہت فہمایش کی کہ یہ آیت مطلوب میں قطعی الدلالت نہیں اس آیت کو آپ بمقابل مرزا صاحب ہرگز پیش نہ کریں کیونکہ یہ دونوں صاحب اس آیہ کے نشیب و فراز سے واقف تھے مگر جناب نے ان کی فہمایش کو قبول نہ فرمایا اور تفسیر ابن کثیر پر تکیہ کر لیا۔ آپ کے شان محققی سے یہ امر نہایت بعید ہے۔ بحث لام تاکید بانون تاکید ثقیلہ ازہری وغیرہ نے تصریح میں تصریح کی ہے کہ لام تاکید کا حال کے واسطے آتا ہے۔ اب تسلیم کیا کہ فقط نون تاکید صرف استقبال کے واسطے ہے لیکن جب کہ کسی صیغہ میں لام تاکید بھی ہو۔ جو حال کے واسطے آتا ہے اورنون تاکید بھی ہو۔ چنانچہ ما نحن فیہ میں ہے تو وہاں پر خالص استقبال بالضرور ہونے کی کیا وجہ۔ اس کی کوئی دلیل مولوی صاحب نے نحو سے ارشاد نہیں فرمائی۔ اور تقریب دلیل محض ناتمام رہی ہے۔ یہ مانا کہ صرف نون تاکید استقبال کے واسطے نحو میں لکھا ہے۔ امر۔نہی۔ استفہام۔ تمنی ۔عرض وغیرہ ان میں صرف نون تاکید ہوتا ہے۔ بغیر لام تاکید کے۔ پس ان صیغوں میں صرف استقبال ضرور مراد ہوسکتا ہے۔ لیکن جس صیغہ میں لام تاکید بھی ہو اور نون تاکید بھی اس میں خالص ہونے استقبال کی کیا دلیل ہے۔ شاید مولوی صاحب نے ازہری کی اس عبارت سے یہ بات سمجھی ہے کہ لانھما تخلصان مدخولھما للاستقبال۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں پر استقبال سے صرف صیغہ استقبال مراد ہے جس کی نسبت السنہ اطفال پر جاری ہے کہ صیغہ حال ہمچو صیغہ استقبال است اور یہ بات خود ازہری کی عبارت سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ذٰلک ینافی المضی اگر مراد ازہری کی خالص زمانہ استقبال ہوتی تو کہتا کہ وذٰلک ینافی المضی والحال اور اسی واسطے قسم کے جواب مثبت میں کوئی شرط زمانہ استقبال کی نہیں رہتی صرف صلاحیت تامہ فعلی کے واسطے دخول نون کی تمام کتب نحو میں لکھی ہے