علیہؔ وسلم (روحی فداہ )شہید وگواہ ہوں گے۔قال اللّٰہ تعالٰی ۱ ۱؍۲ واخرج احمد والبخاری والترمذی والنسائی وغیرھم عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یدعی نوح یوم القیامۃ فیقال لہ ھل بلغت فیقول نعم فیدعی قومہ فیقال لھم ھل بلغکم فیقولون ما اتانا من نذیر و مااتانا من احد فیقال لنوح من یشھد لک فیقول محمد وامتہ ذٰلک قولہ یعنی ھٰذہِ ا لایۃ فیشھدون لہ بالبلاغ واشھد علیکم پس اب دریافت کیا جاتا ہے کہ ضمیر علیہم کا مرجع بھی اہل کتاب جو ایمان لے آویں گے اور اسلام میں داخل ہوکر ہمارے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کی امت میں داخل ہوجاویں گے تو بالضرور ان کے شہید و گواہ بجز رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کے حضرت عیسٰیؑ کیونکر ہوسکتے ہیں حضرت عیسٰی ؑ کا غایت درجہ تو یہ ہے کہ اپنی امت کے شہید ہوں فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۲ ۷؍۷ اور اگر کہو کہ یہ منصب جو ہمارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے۔ وہ بعد نزول حضرت عیسیٰؑ کے حضرت عیسیٰؑ کو مل جاوے گا۔ تو نعوذ باللہ لازم آتا ہے کہ ختم نبوت نہیں ہوا واللازم باطل فالملزوم مثلہ اور گر کہو کہ مرجع ضمیر علیہم کا وہ اہل کتاب ہیں جن کا ذکر یہاں سے ایک کوس بھر کے فاصلہ پر ہوا ہے تو یہ استفسار ہے کہ اس قدر بعید مرجع کا ماننا کس کا مذہب ہے فرّاء کا یا سیبویہ کا۔ بینوا توجروا۔
بحث نحوی بابت زمانہ حال
یہ جو بعض کتب نحو میں لکھا گیا ہے کہ زمانہ حال کا ایسا نہیں ہے کہ اس میں کوئی فعل واقع ہوسکے۔ اور اسی بنا پر مولوی صاحب نے زمانہ استقبال کی دو قسمیں فرمائیں اول استقبال قریب و دوم استقبال بعید۔ اگرچہ مطلب ہمارا اسی سے حاصل ہوگیا کہ مولوی صاحب جس کو استقبال قریب کہتے ہیں ہم اس کو حال کہیں گے صرف ایک نزاع لفظی رہ گئی مگر علاوہ اس کے یہ گذارش ہے کہ یہ ایک تدقیق متکلمین کی ہے۔ ہم کو کیا ضرورت ہے کہ ایسی تدقیق جو بالکل خلاف عرف اہل عربیت کے ہے اس پر اَڑ جاویں دیکھو مطول اور اس کے ہوامش میں لکھا ہے وھذا یعنی الزمان الحال امر عرفی کما