مرجعؔ ضمیر قبل موتہٖ مرجع ضمیر قبل موتہ میں ازروئے نحو کے یہ بحث ہے کہ آیت مذکورہ مدعائے مولوی صاحب میں حسب فہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بطور شک کے بھی تب دلالت کرے گی کہ ضمیر قبل موتہ کا مرجع صرف حضرت عیسٰی ؑ کا ہونا ازروئے قواعد نحو کے واجب و لازم ہو اور کتابی ما اَحَدٌ کا مرجع ہونا ازروئے نحو کے بطور قطعی کے محض باطل اور ممتنع ثابت کیا جاوے حالانکہ وہ وجوب اور یہ امتناع ازروئے قواعد نحو کے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا بلکہ عام مفسرین نحو یین نے راجح اور اولیٰ قول بموجب قواعد نحو کے یہی اختیار کیا ہے۔ کہ ضمیر قبل موتہ کی راجع ہے طرف کتابی کے جو لفظ اہل کتاب سے سمجھا گیا یا اَحَدٌ مقدر ہے جس کا مقدر ماننا بسبب استثناء کے ضروریات سے ہے۔ اور اگر جناب والا یہ وجوب اور امتناع ثابت کریں گے تو تمام مفسرین کا اجماع ایک امر ممتنع نحوی پر لازم آتا ہے واللازم باطل فالملزوم مثلہ فھذا الدعوی تقول علی اللہ وفاسد بالقطع ولایقول بہ الامن رضی بتاسیس بناۂ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ھَارٍفَانْھَارَ بِہٖ۔ بحث سیاق وسباق آیہ ازروئے نحو نحو میں سیاق اورسباق کلام کی رعایت بھی بہت کیا کرتے ہیں لہٰذا اگر آیت مذکورہ سے یہ پیشینگوئی جو مدعا مولوی صاحب ہے مراد الٰہی ہو تو سباق کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ اوپر ہی عنقریب اس آیہ کے یہ پیشینگوئی موجود ہے ۱؂ اور اس کے جملہ خبر یہ ہونے میں کوئی کلام اور بحث نحوی بھی نہیں ہے بخلاف آیت پیش کردہ مولوی صاحب کے کہ بموجب ہو امش شرح جامی وغیرہ کے اس کے جملہ خبر یہ ہونے میں بموجب مسلک مولوی صاحب کے کلام گذر چکا پس ایسا اختلاف سیاق و سباق جس کو کوئی نحوی پسند نہ کرے گا کلام الٰہی میں کیونکر ہوسکتا ہے۔ صدق اللہ تعالی وَ لَوْ کَانَ ۸؍۵ ۲؂ سیاق بیان سیاق یہ ہے کہ آیت ۲؍۶ ۳؂ بھی اس معنے کے مخالف پڑتی ہے مجملاً بیان اس کا یہ ہے کہ یہ مسئلہ بکتاب اللہ و سنت صحیحہ ثابت ہوچکا ہے کہ پچھلی تمام امم ماضیہ پر یہ امت مرحومہ شہید و گواہ ہوگی اور اس امت مرحومہ پر رسول مقبول صلی اللہ