قیدؔ محض لغو اور بے فائدہ ہوجائیگی۔ قواعد جو علم بلاغت کی رعایت سے بعید ہے اگر کاش بجائے قبل موتہ کے من قبل موتہ بھی ہوتا تو کسی قدر منافی مدعا نہ ہوتا۔ یہاں پر تو طلب ایمان کا ظرف زمان قبل موتہٖ واقع ہوا ہے نہ من قبل موتہٖ۔ قال فی المطول و مختصرہ ما حاصلہ واماتقیید الفعل ومایُشبہہ من اسم الفاعل والمفعول وغیرھما بمفعول مطلق اوبہ اوفیہ۔ اولہ۔ اومعہ۔ ونحوہ۔ من الحال والتمیز والاستثناء فلیترتب الفائدہ لان الحکم کلمازاد خصوصا زادغرابۃ وکلمازادغرابۃ زاد افادۃ۔ کما یظہر بالنظر الی قولنا شیء ماموجود و فلان بن فلان حفظ التوراۃ سنۃ کذافی بلدۃ کذا۔اس حیات سے تو حضرت عیسیٰ کی وفات مثل دیگر انبیاء کے ہی اچھی ہوتی۔ اگر حالت حیات و نیز ممات ان کی میں سب اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا مطلوب الٰہی ہوتا اور اب تو بعد ان کی موت کے ان پر ایمان لانا اس جگہ مطلوب الٰہی نہیں رہا۔ ان ھذا لشیء عجاب بل ھو عین الفساد۔ بحث ترکیب نحوی الا لیؤمننّ بہ ترکیب نحوی میں کیا واقع ہوا ہے۔ اگر اَحَدٌ مقدر کی صفت ہے اور اَحَدٌ مبتدامقدم الخبر ہے یعنی من الکتاب اس کی خبر واقع ہوئی ہے تو یہ معنے بھی بہ بداہت فاسد ہیں۔ کیونکہ حاصل معنے یہ ہوئے کہ جو شخص ایسا ہو کہ ایمان لاوے عیسٰی ؑ پر قبل ان کی موت کے وہ شخص اہل کتاب میں سے نہیں ہے حالانکہ یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ اس شخص مومن کا موافق جناب کی مسلک کے اہل کتاب میں سے ہونا کچھ ضرور نہیں۔ سواء اہل کتاب کے دیگر کفار بھی مسیح ابن مریم کے وقت میں اسلام میں داخل ہوں گے اور اگر الا لیومنن محل خبر میں ہے اور من اھل الکتاب صفت ہے اَحدٌ مقدر کی اور اَحَدٌ معہ اپنی صفت کے مبتدا ہے تو بھی معنے فاسد ہیں۔ کیونکہ اس صورت میں بھی تخصیص و تقیید اہل کتاب کی موہم اس کی ہے کہ سوائے اہل کتاب کے اور ملت والے حضرت عیسٰی ؑ پر ایمان نہ لاویں اور اسلام میں داخل نہ ہوں وھذا خلاف دعواکم۔