زمخشرؔ ی وغیرہ سے کچھ اقوال اس بارہ میں نقل فرماتے تو یہ مباحثہ نحوی مولوی صاحب کا کس قدر مابہ الامتیاز ہوجاتا۔ اگرچہ بمقابل حضرت اقدس مرزا صاحب جیسے مؤید من اللہ کے ان ائمہ کبار کی نقل اقوال بھی کچھ وقعت نہیں رکھتی ملاحظہ فرماؤ کتبِ قُرّا اگر وہ میسر نہ ہوں تو مطالعہ کرو کتب مولانا شاہ ولی اللہ صاحب اگر وہ بھی بالفعل نہ ملیں تو دیکھو فوز الکبیر۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اس میں لکھتے ہیں۔
ودر نحو قرآن خللے عجیب راہ یافتہ است وآں آنست کہ جماعتے مذہب سیبویہ را اختیار کردہ اندوہرچہ موافق آں نیست آں راتاویل مے کنند۔ تاویل بعید باشد یا قریب وایں نزد من صحیح نیست اتباع اقوے و اوفق بسیاق و سباق بایدکرد۔ مذہب سیبویہ باشد یا مذہب فراء درمثل ۱ حضرت عثمان گفتہ اند ستقیمھا العرب بالسنتھاوتحقیق این حکم نزدیک فقیر آنست کہ مخالف روز مرہ مشہورہ نیز روزمرہ است و عرب اول را دراثناء خطب محاورات بسیار واقع مے شد کہ خلاف قاعدہ مشہورہ بزبان گذشتے۔ اگر احیاناً بجائے واویا آمدہ باشد یا بجائے تثنیہ مفرد یا بجائے مذکر مؤنث چہ عجب۔ پس آنچہ محقق است آنست کہ ترجمہ بمعنے مرفوع باید گفت واللہ اعلم۔
اگر مولوی صاحب قواعد نحو مندرجہ شرح ملا وحواشی اس کے ایسے پابند ہیں کہ سر موتجاوز نہیں ہوسکتا تو سوال ذیل کا جواب مرحمت فرماویں۔ انہیں کتابوں میں لکھاہے کہ نون التاکید لا یوکد الامطلوبا والمطلوب لا یکون ماضیا ولا حالا ولا خبرا مستقبلا اس سے ثابت ہوا کہ لیومنن بہ قبل موتہ جملہ خبر یہ نہیں ہے بلکہ جملہ قسمیہ انشائیہ ہے چنانچہ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں بھی واللّٰہ کو پہلے لیؤمننّ کے مقدر مانا ہے اور جملہ قسمیہ انشائیہ ہی قرار دیا ہے اور جب کہ جملہ قسمیہ انشائیہ ہوا تو پیشین گوئی یعنی خبر مستقبل کیونکر ہوسکتا ہے کجا جملہ خبر یہ اور کجا جملہ انشائیہ بہ بیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا۔ اور پھر ایک فساد اس میں اور بھی پیدا ہوگیا وہ یہ ہے کہ تمام اہل کتاب سے جو ایمان لانا حضرت عیسٰی ؑ پر مطلوب الٰہی ہے وہ قبل ان کی موت کے ہے کیونکہ تقئید بقید قبل موتہ محض بیکار تو ہے ہی نہیں۔ مطول
وغیرہ کو دیکھو جملہ مقیدات میں بموجب قواعد علم بلاغت کے لحاظ قید کا ضروری ہوتا ہے ورنہ