یاحاؔ ل ہے فاعل نَزَلَ یا یَنْزِلُ سے جس کا عامل وہی نَزَلَیا یَنْزِلُ ملفوظ ہے اور اس مطلب کو امام مسلم نے چند روایت سے ثابت کیا ہے اول روایت ابن عیینہ سے چنانچہ لکھتے ہیں وفی روایۃ ابن عیینہ اماماً مقسطًا حکمًا عدلًا پھر بروایت حضرت ابی ہریرہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم فامّکم۔ ناظرین غور فرماویں کہ اس روایت میں کس تنصیص اور تصریح سے موجود ہے کہ وہی ابن مریم تمہاری امامت کرے گا نہ یہ کہ کوئی دوسرا اس کے وقت میں امام ہو۔ پھر بروایت حضرت ابی ہریرہ دوسری اسناد سے لکھتے ہیں کیف انتم اذانزل فیکم ابن مریم فامکم منکم اس روایت سے تمام شبہات و شکوک شاکین دفع کردیئے گئے ہیں۔ پھر آگے چل کر فرماتے ہیں فقلت لابن ابی ذئب ان الا وزاعی حدثنا عن الزھری عن نافع عن ابی ھریرۃ وامامکم منکم قال ابن ابی ذئب أتدری ماامّکم منکم فقلت تخبرنی قال فامکم بکتاب ربکم تبارک و تعالٰی و سنۃ نبیکم صلی اللہ علیہ و سلم ۔ اب تو کوئی بھی شک باقی نہیں رہا جس کا دفع امام مسلم صاحب نے نہ فرمایا ہو کہ امامکم منکم حال یا صفت اسی مسیح بن مریم کی واقع ہے نہ کسی دوسرے شخص کی خواہ امام مہدی ہوں یا اور کوئی۔ اب کہاں ہیں وہ اہلحدیث جو دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ احادیث صحیحین سب حدیثوں سے مقدم ہیں اور مع ہٰذا یہ بھی کہے چلے جاتے ہیں کہ امامکم منکم تو سواء ابن مریم کے کوئی دوسرا امام مہدی وغیرہ ہوگا۔ ایہاالناظرین یہ ہے مصداق مَااٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ کا یا وہ جو مولانا صاحب نے فہم مشکوک بلفظ اِنْ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا لکھا؟ علم نحو مولوی صاحب نے اس مباحثہ میں علم نحو سے بڑی اعانت لی ہے اور دارومدار کل اپنی استدلال کا اور مناط قطعیۃ الدلالت ہونے اپنی دلیل کا اسی مسئلہ نون ثقیلہ کو گردانا ہے مگر دانست ناقص میں یہ مسئلہ نحویہ نون ثقیلہ کا ایک نہایت مقدمہ خفیفہ ہے جس سے بجز خفت کے اور کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ بیان اس کا یہ ہے۔ اول تو مولوی صاحب نے اس مسئلہ کو ایسی کتابوں سے نقل فرمایا ہے کہ ان سے ہر ایک طالب علم نقل کرسکتا ہے۔ مولوی صاحب کو اس میں کوئی مابہ الامتیاز خصوصیت جیسا کہ ان کی شان عالی ہے۔ حاصل نہیں ہوئی۔ کاش اگر ائمہ کبارنحو میں مثل زجاج جوہری۔سیرافی۔ ابوعلی فارسی۔ خلیل ابن احمد۔ اخافشِ ثلاثہ۔ اصمعی۔ کسائی۔ سیبویہ۔ مبرد