لاناؔ لانسلم ان الناقض والمعارض متصدیان لاثبات الحکم من حیث انہ اثبات بل من حیث انہ نفی لاثبات حکم تصدی باثباتہ الخصم من حیث انہ معارضۃ اونقض لدلیلہ۔
ناتمامی تقریب ازروئے علم مناظرہ
اور علم مناظرہ کے رو سے تقریب مولوی صاحب کی دلیل کی محض ناتمام ہے بیان اس کا چہارسطری یہ ہے۔ مدعا مولوی صاحب کا منقح ہو کر یہ رہا ہے کہ بعد نزول عیسٰی بن مریم اور قبل موت ان کی کے ایسا زمانہ آوے گا کہ سب اہل کتاب مومن ہوجاویں گے یعنی اسلام میں داخل ہوجاویں گے۔ اور دلیل مولوی صاحب کی مستلزم اس مدعا کو نہیں ہے۔ کیونکہ مولوی صاحب کا اقرار پرچہ ثانی میں مندرج ہے کہ مراد ایمان سے یقین ہوسکتا ہے نہ ایمان شرعی ۔پس دلیل سے سب اہل کتاب کا ایمان شرعی کے ساتھ مومن ہونا اور اسلام میں داخل ہونا ثابت نہ ہوا اور تقریب محض ناتمام رہی ایہاالناظرین ذرہ انصاف کرو کہ اس مشکل مسئلہ مناظرہ کو حضرت اقدس نے کس آسانی اور سہولت اور حسن اسلوب سے بیان کیا ہے کہ ہر ایک قاصی و دانی اس کو سمجھ سکتا ہے لیکن افسوس کہ حضرت مولوی صاحب نے اس پر ذرہ بھر خیال نہ فرمایا۔اِنَّا لِلَّہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
فقہ حدیث
اس مباحثہ میں فقہ حدیث مولوی صاحب کا یہ ہے کہ مااٰتاکم الرسول کا مصداق حضرت ابوہریرہ کا قول اور فہم مشکوک مندرجہ فاقرء وا ان شئتم ۱ کو ٹھہرا دیا ہے اور طرفہ اس پر یہ ہے کہ یہ بھی اقرار ہے کہ فہم صحابی کو میں حجت نہیں جانتا۔ مولانا صاحب جب کہ قول و فہم صحابی حجت نہیں ہے تو اقوال تابعین وغیرہ جو جناب نے اپنے معنے کی تائید میں نقل فرمائے ہیں وہ کیونکر حجت قطعی ہوگئے۔ ۲ اگر فقہ حدیث کی طرف مولوی صاحب توجہ فرماتے تو فیصلہ اس مباحثہ کا بہت آسان تھا۔ بیان اس کا بطور نمونہ کے مجملاً یہ ہے کہ صاحب صحیح مسلم نے روایتاً و درایتاً اس امر کا فیصلہ کردیا ہے۔ وامامکم منکم جو صحیحین کی حدیث میں ایک جملہ واقع ہے اس سے کوئی دوسرا امام سوا ابن مریم کے مراد نہیں ہے۔ بلکہ یہ جملہ یا تو بطور صفت کے اسی ابن مریم کا وصف واقع ہوا ہے