ترجمہؔ سب کے سب صیغے مضارع کے ہیں نہ خالص استقبال کے۔ اس پر علاوہ یہ ہوا ہے کہ اردو میں لفظ ابھی کا جو خالص حال کے واسطے آتا ہے۔ مولوی صاحب نے اس کو ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب میں یعنی ابھی جلا ویں گے ہم اس کو۔ خالص استقبال کے واسطے مقرر فرمایا ہے۔ اب ناظرین انصاف فرماویں کہ مولوی صاحب کا اس جگہ پر حضرت مرزا صاحب کی نسبت یہ فرمانا کہ ھٰذا بعید من شان المحصلین۔کیسا اپنے موقع اور محل پر واقع ہوا ہے۔ سبحان اللہ۔
علم مناظرہ
مولوی صاحب نے علم مناظرہ کی طرف صرف اس قدر توجہ فرمائی کہ حضرت مرزا صاحب نے جو تعریف مدعی کی لکھی۔ اور اس کی فلاسفی بیان فرمائی اس پر جھٹ اعتراض کردیا کہ یہ تعریف لفظ مدعی کی مخالف ہے اس کے جس کو علماء مناظرہ نے لکھا ہے اور رشیدیہ سے یہ عبارت نقل فرمادی کہ:۔
المدعی من نصب نفسہ لاثبات الحکم ای تصدی لان یثبت الحکم الخبری الذی تکلم بہ من حیث انہ اثبات بالدلیل اوالتنبیہ۔مگر یہ نہ سوچا کہ حضرت مرزا صاحب نے جو ِ سرّ اورُ گر مدعی ہونے کا بہ تفصیل وبسط کلام بتلایا ہے اور اس پر ایک دلیل عقلی قطعی بھی قائم کردی ہے۔ وہی سرمن حیث انہ اثبات بالدلیل کی حیثیت سے بخوبی سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ رشیدیہ میں اسی تعریف کے آگے اس قید حیثیت کا فائدہ یہ لکھا ہے۔ فلایرد ما قیل انہ یصدق ھذا التعریف علی الناقض بالنقض الاجمالی والمعارض وھمالیس بمدعیین فی عرفھم لانھمالم یتصدیا لاثبات الحکم من حیث انہ اثبات بل من حیث انہ نفی لاثبات حکم تصدی باثباتہ الخصم من حیث انہ معارضۃ لدلیلہ۔
مگر مولوی صاحب نے تو سوائے ایک نون ثقیلہ کے جس کا حال انشاء اللہ تعالیٰ بیان علم نحو میں آئے گا کسی طرف توجہ ہی نہیں فرمائی۔ نہ تو اس قید حیثیت پر نظر فرمائی جو خود تحریر نہیں فرمائی تھی اور نہ اس عبارت رشیدیہ کی طرف غور فرمایا جو لکھی گئی۔ اور حضرت مرزا صاحب نے تو جہاں جہاں اپنے رسائل میں بطور معارضہ کے وفات عیسٰی ؑ بن مریم ثابت کی ہے یا نقض اجمالی یا نقض تفصیلی کیا ہے یا دلیل حیات میں کوئی فساد بیان فرمایا ہے اور یا دلیل مدعی حیات کو باطل کیا ہے تو اس بیان نقض و معارضہ سے حضرت اقدس سلمہٗ مدعی نفس الامری کیونکر ہوسکتے ہیں۔