یؔ کسی حدیث سے مخالف اور مبائن پڑے اور کسی طور سے تطبیق نہ ہوسکے تو آپ صاحبان فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ وہ حدیث صحیح نہیں ہے مگر کمال افسوس کی جگہ ہے کہ یہ مذہب قرآن کریم کی نسبت آپ اختیار کرنا نہیں چاہتے !!! اور اجماع کی نسبت جو آپ نے دریافت فرمایا ہے میں تو پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ ابن صیاد جو مسلمان ہوگیا تھا بیان کرتا ہے کہ لوگ مجھے ایسا کہتے ہیں کہ اس کی شہادت میں کوئی اشتباہ نہیں جس سے سمجھا جاتا ہے کہ عام طور پر صحابہ کا یہی خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے ماسوا اس کے حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کا یہ مذہب ہوگیا تھا کہ حقیقت میں ابن صیاد ہی دجال معہود ہے اس صورت میں دوسرے صحابیوں کا خاموش رہنا صریح اس بات پر دلیل ہے کہ وہ اس مذہب کو مان چکے تھے اور اگر ان کی طرف سے کوئی مخالفت اور انکا رہوتا تو ضرور وہ انکار ظاہر ہوجاتا۔ پس صحابہ کے اجماع کیلئے اسی قدر کافی ہے۔ بالخصوص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو قسم کھا کر بیان کرنا کہ درحقیقت ابن صیاد ہی دجال معہود ہے صریح دلیل اجماع پر ہے کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ اکثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہ سے اکیلے نہیں ہوتے تھے اور غالباً جس وقت حضرت عمررضی اللہ عنہ نے قسم کھائی ہوگی اس وقت بہت سی جماعت صحابہ کی موجود ہوگی۔ پس ان کی خاموشی صریح اجماع پر دلیل ہے۔ پھر آپ نے بیان فرمایا ہے کہ شرح السنّہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول منقول نہیں ہے بلکہ اس میں ایک صحابی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے حضرت اس کے جواب میں اس قدر کہنا کافی ہے کہ آپ لوگوں کے نزدیک تو صحابی کا قول بھی ایک قسم کی حدیث ہوتی ہے گو منقطع ہی سہی۔ صاف ظاہر ہے کہ صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء نہیں کرسکتا اور ڈرنے کی بات ایک ایسی بات ہے کہ جب تک آنحضرت صلعم اشارۃً یا صراحتاً بیان نہ فرماتے تو صحابی کی کیا مجال تھی کہ خودبخود آنجناب پر افترا کر لیتا۔ بلاشبہ اس نے سنا ہوگا تب ہی تو اس نے ذکر کیا سو جو کچھ اس نے سنا۔ اگرچہ آنحضرت صلعم کے الفاظ سے ظاہر نہیں کیا لیکن ایک بچہ کو بھی سمجھ آسکتی ہے کہ اس نے ضرور سنا تب ہی بیان کیا۔ پس ظاہر ہے کہ یہ افترا نہیں بلکہ بیان واقعہ ہے۔ کیا آپ اس صحابی پر حسن ظن نہیں رکھتے؟ اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ بغیر سننے کے ہی اس نے کہہ دیا ! آپ فرماتے ہیں کہ اس نے خیال ظاہر کیا ! میں کہتا ہوں کہ آنحضر ت صلعم کے ما فی الضمیر پر اس کو کیا علم تھا جب تک آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم اشارۃً یا صراحتاً آپ ظاہر نہ فرماتے ؟ راقم خاکسار غلام احمد عفی عنہ بقلم خود ۲۱؍ جولائی ۱۸۹۱ء