متصلؔ سے یہ ثابت ہے کہ معنی آیت کے یہی ہیں جو مولوی صاحب نے کئے ہیں۔ پیشین گوئی کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب تو دیگر مطالب تفسیریہ کی نسبت یہی تحریر فرماتے ہیں۔
پیش ایں فقیر محقق شدہ است کہ صحابہ و تابعین بسیار بودکہ نزلت الایۃ فی کذاوکذامے گفتند و غرض ایشاں تصویر ماصدق آں آیت بود و ذکر بعض حوادث کہ آیت آں را بعموم خود شامل شدہ است خواہ ایں قصہ متقدم باشد یا متاخر اسرائیلی باشدیا جاہلی یا اسلامی تمام قیود آیت راگر فتہ باشدیا بعض آں را واللّٰہ اعلم ازیں تحقیق دانستہ شدکہ اجتہاد ر ادریں قسم دخلے ہست و قصص متعددہ را آنجا گنجائش ہست پس ہرکہ ایں نکتہ مستحضرد اردحل مختلفات سبب نزول باد نیٰ عنایت مے تو اں نمود۔ انتہیٰ۔
ہاں مولوی صاحب کو صرف اتنا اختیار تھا کہ اپنے ان معنے مختار کو ترجیح دیتے نہ یہ کہ ان کو قطعیۃ الدلالت فرماتے اور نہ ایسا کلمہ کہتے کہ مصداق ہو۔ ۱ کا اس معنے کے ماعد اجتنے معنے تمام دنیا بھر کی تفسیروں میں لکھے ہیں سب غلط اور باطل ہیں اے مولوی صاحب اتق اللّٰہ
نام نیک رفتگان ضائع مکن تابماند نام نیکت یادگار
یہ قضیہ بھی تو مسلمہ مفسرین ہے کہ فمتی اختلف التابعون لم یکن بعض اقوالھم حجۃ علی بعض۔ پھر مولوی صاحب کا تمام دنیا بھر کے مفسرین کو باطل اور غلطی پر قرار دینا اور اپنے معنی کو حجت قطعی گرداننا کیا یہی تقویٰ اور دیانت اور اظہار حق و صواب ہے؟ بینوا توجروا۔
علم زبان فارسی
مولوی صاحب نے جو ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب کی طرف توجہ فرمائی تو بسبب غلبہ خیال نون ثقیلہ کے جو جو صیغے کہ فارسی میں واسطے مضارع کے آتے ہیں ان کو خالص استقبال کے واسطے اپنی طرف سے خلاف قواعد فرس قرار دے لیا۔ شاہ ولی اللہ صاحب کے الفاظ ترجمہ یہ ہیں۔ پس۱ البتہ متوجہ گردانیم ترابآں قبلہ کہ خوشنودشوی۔ والبتہ۲ بسوزانیم آں را پس۳ پراگندہ سازیم آں را۔ والبتہ۴ دلالت کنیم ایشاں رابراہہائے خود۔ والبتہ۵ غالب شوم منو۶ غالب شوند پیغمبران منو۷البتہ زندہ کنمیش بزندگانئپاک ودر۸اریم ایشاں رادرزمرہ شائستگاں۔ ایہا الناظرین اطفال دبستان بھی اس قاعدہ کو خوب جانتے ہیں کہ علامت خالص استقبال کی خواہد۔ خواہند۔ خواہی۔ خواہید۔ خواہم ہے اور علامت خالص حال کی لفظ مے کا مضارع پر داخل ہونا ہے۔ اور یہ الفاظ مندرجہ