جبؔ مولوی صاحب کچھ تحریر فرماویں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ خاص اس قراء ت کی نسبت بہ تفصیل اور بھی لکھا جاوے گا۔ واضح ہو کہ ابی بن کعب وہ صحابی جلیل القدر ہیں جن کی نسبت حضرت صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں وَأَقْرَأُ کُمْ اُبَیّ وایضا قال قال رسول صلی اللہ علیہ و سلم لابیّ بن کعب ان اللہ امرنی ان اقرأ علیک القراٰن قال اللّٰہ سمّانی لک قال نعم قال و قد ذکرت عند رب العٰلمین قال نعم فذرفت عیناہ متفق علیہ اور ان حضرت ابیّ کا ایک مصحف بھی ہے جس کی ترتیب سور اتقان وغیرہ میں لکھی ہے۔
علم تفسیر
مولوی صاحب نے اس علم کی طرف صرف اس قدر توجہ فرمائی ہے کہ بعض تابعین کے اقوال دربارہ ترجیح اپنی معنی مختار کے تفسیرابن کثیر سے نقل کئے ہیں اور حضرت ابوہریرہ کا فہم اور کچھ حضرت ابن عباس سے ایک آدھ قول نقل فرمایا ہے۔ اور پرچہ ثانی میں مولوی صاحب نے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ اس میرے معنی کی طرف ایک جماعت سلف میں سے گئی ہے یعنی اس آیت کی تفسیر مختلف فیہ اور ذوالوجوہ ہے اجماعی طور پر ایک معنے نہیں ہیں۔ اور یہ بھی اقرار ہے کہ فہم صحابی کو میں حجت نہیں جانتا۔ باوجود اس کے مولوی صاحب نے فن تفسیر کی طرف بالکل توجہ نہیں فرمائی۔ فن تفسیر کے رو سے کسی ایسی آیت کے معنی میں جس میں تعلق کسی پیشین گوئی کا ہو واقع ہونے پیشین گوئی تک قطعی کچھ فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ صرف ایک اجتہادی امر ہے کیونکہ حقیقت پیشین گوئی کی لاعلم لنا میں داخل ہے بخلاف دیگر مطالب ضروریہ تفسیریہ کے کہ وہ علمتنامیں داخل ہوسکتے ہیں اور قطعی فیصلہ بھی ہوسکتا ہے۔ مولوی صاحب باوجودیکہ اس آیت کو متعلق پیشین گوئی قرار دیتے ہیں پھر بھی ۱ کا کچھ خوف نہ کیا اور آیت کی تفسیر میں اقوال رجال غیر معصومین سے یہ بات قطعی طور پر یقین کر لی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ بعد نزول عیسیٰ ؑ بن مریم کے اور قبل موت اس کی کے جس میں سب اہل کتاب حضرت عیسٰی ؑ پر ایمان لے آویں گے جب کہ آیت ذوالوجوہ اور متشابہ ہے اور مولوی صاحب کے نزدیک اس کا تعلق بھی پیشین گوئی سے ہے تو معہٰذا قطعی اور یقینی طورپر مولوی صاحب کون سے علم سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ نے بھی شکی طور پر اپنے فہم کو ترجیح دی تھی و بس۔ کیا مولوی صاحب کو علم غیب ہے؟ یا اس آیت کی تفسیر میں کسی حدیث صحیح مرفوع