علمؔ اسماء الرجال
اس علم کی طرف مولوی صاحب نے صرف اسقدر توجہ فرمائی ہے کہ رجال اسناد قراء ت قبل موتھم کی توثیق و تعدیل حضرت مرزا صاحب سے دریافت فرمانے لگے مگر جو روات کہ مولوی صاحب کی روایات مندرجہ مباحثہ میں قابلِ تنقید واقع ہوئی ہیں ان کا کچھ بھی احوال تحریر نہ فرمایا۔ پھر حضرت مرزا صاحب سے رواۃ اسناد اس قراء ت کی توثیق جو تفاسیر معتبرہ میں بحوالہ مصحف ابی بن کعب لکھی ہے یہ بعد تسلیم کر لینے اس قرأ ت کے مصحف ابی میں توثیق رجال کیوں دریافت فرمائی گئی۔ ۱۔ علم اسماء الرجال میں کمال تو یہ ہوتا کہ جو راوی کی زبان سے نکلتا اس کی دفیات وسنین ولادت اور اعمار اور سوانح عمری اور کئی اور القاب اور جملہ اسباب قادحہ خفیہ غیرخفیہ زبانی بیان فرمادئے جاتے ورنہ اب تو اکثر کتب حدیث کے حواشی پر اسماء الرجال چڑھا ہوا ہے۔ ادنیٰ طالب علم نقل کر سکتا ہے۔ مولوی صاحب کی اس میں خصوصیت کیا ہے پس کوئی کمال علم اسماء الرجال میں مولوی صاحب نے یہاں پر ظاہر نہیں فرمایا شاید کسی اور وقت کے لئے رکھ چھوڑا ہو۔
علم قراء ت
اس علم کی طرف مولوی صاحب نے بالکل توجہ نہیں فرمائی۔ ورنہ چند سطور میں فیصلہ ہو جاتا۔ بطور نمونہ کے تقریر اس کی مجملاً یہ ہے کہ اگر تسلیم کیا جاوے کہ قراء ت مندرجہ مصحف ابی بن کعب بالکل قراء ت شاذہ ہے تو قراء ت مشہورہ کے لئے اس کے مبین و مفسر ہونے میں کیا کلام ہے۔ یہ مسئلہ بھی قرّاء وغیرہ کے نزدیک مسلم ہے۔ اتقان وغیرہ میں لکھا ہے۔ وقال ابوعبیدۃ فی فضائل القرآن المقصد من القراء ۃ الشاذۃ تفسیر القراء ۃ المشھورۃ و تبیین معانیھا الی قولہ فھذہ الحروف و ماشاکلھا قد صارت مفسرۃ للقران وقد کان یروی مثل ھذا عن التابعین فی التفسیر فیستحسن فکیف اذا روی عن کبارالصحابۃ ثم ھار فی نفس القراء ۃ فھو اکثر من التفسیر واقوی فادنٰی ما یستنبط من ھذہ الحروف معرفۃ صحۃ التاویل۔ انتھیٰ۔چونکہ متعلق علم قراء ت کے مولوی صاحب نے کچھ بھی تحریر نہیں فرمایا لہٰذا زیادہ طول نہیں کیا گیا۔