المضاؔ رع۔ قد یقصد بالمضارع الاستمرار علی سبیل التجدد و التقضٰی بحسب المقامات و وجہ المناسبۃ ان الزمان المستقبل مستمر یتجدد شیءًا فشیءًا فناسب ان یراد بالفعل الدال علیہ معنٰی یتجدّد علی نحوہ بخلاف الماضی لانقطاعہ و الحال لسرعۃ زوالہ الی آخر العبارۃ۔ حاصل مطلب اس کا یہ ہے کہ تقدیم مسند الیہ کی کبھی دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ مسند الیہ مسند کے ساتھ بطور استمرار کے متصف ہے اور وہاں پر صرف یہی مطلوب نہیں ہوتا کہ مسند کے صادر ہونے کی مسند الیہ سے خبر دی جاوے جیسا کہ زاہد شراب پیتا ہے اور طرب و خوشی کرتا ہے۔ السید السند فرماتے ہیں کہ مضارع سے استمرار کا قصد علیٰ سبیل التجدد اور تقضی کے بحسب مقامات کے قصد کیا جاتا ہے اور صیغہ مضارع کا جو واسطے دلالت کرنے کے اوپر استمرار کے خاص کیا گیا اور ماضی و حال کو استمرار کے واسطے مقرر نہ کیا اس کی یہ وجہ ہے کہ زمانہ مستقبل ایک ایسی شے مستمر ہے جو چیز ے چیزے متجدد ہوتی رہتی ہے۔ پس جو فعل کہ اس زمانہ متجدد پر دلالت کرے اسی کو دوام تجددی کے واسطے مقرر رکھا گیا اور یہی مناسب تھا۔ بخلاف ماضی کے کہ وہ منقطع ہو چکا اور حال سریع الزوال ہے۔ السید السند دوسری جگہ ہو امش مطول میں لکھتے ہیں وقد یقصد فی المضارع الدوام التجددی وقد سبق تحقیقہ ۔ دوسری جگہ مطول میں لکھا ہے۔ کما فی قولہ تعالیٰ ۱؂ بعد قولہ تعالیٰ ۲؂ حیث لم یقل اللہ مستھزئ بِھِمْ بلفظ اسم الفاعل قصداً الی حدوث الاستھزاء و تجددہ وقتا بعد وقت الی قولہ و ھکذا کانت نکایات اللہ فی المنافقین و بلایا النازلۃ بھم یتجدد وقتا فوقتا و تحدّث حالا فحالا انتھی و ایضا قال کما ان المضارع المثبت یفید استمرار الثبوت یجوز ان یفید المنفی استمرار النفی وغیر ذٰلک من العبارات الصریحۃ۔ پھر اس صیغہ مستقبل کے دوام تجددی کے واسطے مستعمل ہونے میں کسی کا خلاف بھی نہیں معلوم ہوتا ایک مسئلہ اتفاقیہ ہے۔ پس اگر حضرت مرزا صاحب نے حسب مقتضائے مقامات قرآن مجید میں مستقبل سے معنے دوام تجددی کی مراد لی تو کونسا محذور لازم آیا بیّنوا توجروا ! مباحثہ ایک صفحہ میں ختم ہو گیا۔